انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 677
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث تمہیں محاسبہ کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۶۷۷ سورة البينة غرض انسان کا ذہن اللہ تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ اگر وہ توجہ کرے اور ارادہ کرے تو وہ چیزیں نہیں بھولتا۔تو اس مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین میں جو یہ تقاضا کیا گیا ہے کہ تم نے بہت سے محاسبے کرنے ہیں اس میں یہ بھی نتقاضا ہے کہ وہ باتیں جن کو محاسبہ کے ساتھ تعلق ہو ان کی طرف تمہیں توجہ دینی پڑے گی اور ارادہ کرنا پڑے گا کہ تم ان کو یا درکھو۔۔۔۔۔۔۔۔پس عبادت کا یہ تقاضا ہزار قسم کی ذمہ داریاں ہم پر ڈالتا ہے کہ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ کی رو سے حساب اور محاسبہ اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہونا چاہیے۔اس طرف بھی ہمیں بڑی توجہ دینی چاہیے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ تربیت محاسبہ کے بغیر نہیں ہو سکتی۔مثلاً ہم نے خدام الاحمدیہ کی تنظیم میں دیکھا ہے ہم نوجوانوں کی تربیت کرتے ہیں کہ وہ قرآن پڑھیں۔ان میں اچھے اخلاق پیدا ہوں۔بنی نوع انسان کی خدمت کا جذبہ پیدا ہو۔ایک قائد اپنے تیس، چالیس یا پچاس،سو خدام کا محاسبہ کرتا ہے ایک دوسرا خادم ہے وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتا۔اس کو پتہ نہیں میں نے ان نو جوانوں سے کام کیسے لینا ہے۔نہ ان کی عادات سے واقف نہ ان کی استعداد سے واقف ہے تو محاسبہ کس طرح کر سکتا ہے۔محاسبہ تو علم کے بغیر نہیں ہو سکتا تو جس حد تک انسان کے لئے دائرہ حساب کے اندر معلومات کا حصول ممکن ہو اس حد تک اسے ضرور معلومات حاصل کر لینی چاہئیں۔اس کے بغیر وہ ذمہ داری کو ادا نہیں کر سکتا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ قائد یا سائق یا زعیم کا خدام سے ذاتی تعلق ہونا چاہیے۔اس کے بغیر مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ میں جس محاسبہ کا تقاضا کیا گیا ہے وہ پورانہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غرض جب تک علم نہ ہو آپ محاسبہ کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے آپ اس نو جوان کا محاسبہ کرتے تو غلط نتیجہ پر پہنچ جاتے۔بہت سے انسان بدقسمتی سے ٹوٹ جاتے ہیں کیونکہ ان کے خلاف غلط محاسبہ ہوتا ہے۔قرآن کریم نے جب یہ کہا کہ کسی کو سزا یا معانی دینے کا فیصلہ اس کی اصلاح کو مد نظر رکھ کر کرنا ہے تو ساتھ ہی یہ حکم بھی دیا کہ پہلے اس کی طبیعت سے واقفیت حاصل کرو کہ اگر تمہیں پتہ ہی نہیں کہ وہ شخص کس طبیعت اور مزاج کا ہے تو تمہیں یہ کیسے پتہ لگے گا کہ معافی سے اس کی اصلاح ہو سکتی ہے یا سزادینے سے اصلاح ہو سکتی ہے اور یہ حکم بھی دراصل اسی محاسبہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے کہ صحیح علم کے بغیر وہ محاسبہ نہیں ہوسکتا جس کا مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ کا قرآنی فقرہ ہم سے تقاضا کرتا ہے۔غرض