انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 676
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة البينة متعلق ہم کہہ سکیں کہ وہ معاشرے میں فساد پیدا کرنے والی ، حقوق تلف کرنے والی، انتہام لگانے والی ، جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی وغیرہ ہوایسی کوئی تدبیر نہیں ہوگی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تدبیر کر وگر مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ہو کر کرو۔پھر کوئی تدبیر ایسی نہیں ہوگی جس میں شرک کی ملاوٹ ہو۔پھر جس نے اپنی تدبیر خدا کی رضا کے لئے کی وہ اس تدبیر پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔اس کی تدبیر اگر نا کام ہو جائے تو وہ خدا سے کوئی شکوہ نہیں کرسکتا۔اگر اس کی تدبیر کے نتیجہ میں کسی کو دکھ پہنچ جائے تو اس سے وہ خوش نہیں ہوسکتا۔بعض دفعہ انسان کا ارادہ کسی کو دکھ پہنچانے کا نہیں ہوتا لیکن نا سمجھی کی وجہ سے یالا علمی کی وجہ سے کوئی ایسی تدبیر کرتا ہے جس سے کسی اور کو دکھ پہنچ جاتا ہے۔ایسے وقت میں یہ شخص خوش نہیں ہوتا بلکہ انتہائی طور پر رنجیدہ ہوتا ہے۔دلی جذبات کے ساتھ اس سے معذرت کرتا اور اس سے معافی مانگتا ہے کہ میں نے تو کبھی ارادہ نہیں کیا تھا کہ آپ کو تکلیف پہنچے۔اپنی سوچ کے مطابق ایک جائز تدبیر کی تھی مجھے افسوس ہے کہ آپ کو نقصان پہنچ گیا۔ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر تدابیر مُخْلِصِينَ لَهُ الدّین کی ہدایت کے ماتحت ہوں تو ہر شخص دوسرے کا خادم بن جاتا ہے کسی شخص کو دوسرے سے خطرہ نہیں رہتا۔امن کا ایک ایسا حسین معاشرہ قائم ہو جاتا ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ اتنی اعلیٰ اور احسان کرنے والی تعلیم دی ہے کہ صرف میری عبادت کرو۔عبادت کے حقوق ادا کرو۔ان میں سے ایک یہ حق ہے کہ تمہاری کوئی تدبیر ایسی نہ ہو جس میں اللہ کے لئے خلوص نیت نہ ہو۔دین کے نویں معنی حساب یا محاسبہ کے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حقیقی عبادت کا قیام محاسبہ کا تقاضا کرتا ہے۔مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ کے مطابق محاسبہ کے طریق کو اختیار کئے بغیر انسان حقیقی عبادت کر نہیں سکتے۔ایک تو محاسبہ نفس ہے انسان اپنے نفس کا حساب لیتا ہے اور اسے لینا چاہیے اور محاسبہ کے نتیجہ میں اسے علی وجہ البصیرت علم حاصل ہوتا ہے یعنی اس کا علم ظنی نہیں ہوتا بلکہ یقینی ہوتا ہے ہم دن رات اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہیں رات کیسے گزری دن کیسے گزرا۔مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ میں جن دیگر تقاضوں کا ذکر ہے وہ ہم نے پورے کئے ہیں یا نہیں۔اس طرح آدمی سوچتا ہے تو اس کی غلطیاں سامنے آتی ہیں۔پھر وہ ان کو دور کرتا ہے کسی کو تکلیف پہنچائی ہوتی ہے تو اس کا تدارک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم عبادت کا حق ادا کرنا چاہتے ہو تو خلوص نیت کے ساتھ