انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 675 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 675

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۷۵ سورة البينة تقاضا کو پورانہیں کرتا وہ خدا کو راضی نہیں کر سکتا ہر کام میں مقصد یہ ہو کہ میں نے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔کام کرنا ہے نکما نہیں بیٹھنا لیکن کام اس نیت سے کرنا ہے کہ میں خدا کو راضی کرنا چاہتا ہوں۔خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ مجھے نیچے پھیلا ہوا ہاتھ پسند نہیں جو ہاتھ اوپر ہے یعنی دینے والا ہاتھ وہ مجھے پسند ہے جو منگتا ہاتھ ہے وہ مجھے پسند نہیں۔ایک شخص ایک کلہاڑی اور رسی لیتا ہے اس کے مخلص دوست اسے ہر چیز مفت دینے کو تیار ہیں لیکن وہ کہتا ہے نہیں مجھے ایک کلہاڑی اور ایک رسی مہیا کر دیں اور وہ بھی مفت نہیں لوں گا بطور قرض دے دیں کیونکہ مجھے قرض کی ضرورت ہے۔میں خود کماؤں گا اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہوں گا۔اس کا لکڑیاں کاٹنا اور ان کا گٹھا بنا کے بازار میں لے جا کر بیچنا یہ ایک عام تد بیر نہیں جو محض دنیا کے لئے اور پیٹ کی خاطر کی جاتی ہے بلکہ یہ ایک ایسی تدبیر ہے کہ اس کے بجالانے میں ہر حرکت وسکون خدا کو بڑا پیارا ہے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم میں سے جن لوگوں نے خدا کی رضا کے لئے قرض لے کر ایک رشی کا ٹکڑا اور کلہاڑی لی تھی۔اللہ تعالیٰ نے قیصر و کسریٰ کے خزانے ان کے قدموں میں لا ڈالے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ انہوں نے رزق کمانے میں خدا کے لئے خلوص نیت کا جو مظاہرہ کیا تھا وہ خدا تعالیٰ کو کتنا پیارا لگا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تدبیر کی اور کہا کہ رزق کی کمائی میں تم نے اپنی تدبیر کو مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ کی روشنی میں کیا ہے۔مجھے تمہاری یہ تدبیر پسند آئی ہے۔قیصر وکسری نے تو جائز اور ناجائز وسائل سے دولت کو جمع کیا تھا لیکن میں جائز طریق پر وہ ساری دولت لا کر تمہارے قدموں پر رکھ دیتا ہوں۔پس عبادت کا حق ادا نہیں ہو سکتا جب تک انسان دنیوی تدابیر نہ کرے۔تدبیر کرنا ضروری ہے لیکن جب کوئی تدبیر کرے تو دنیا کی خاطر نہ کرے بلکہ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کی روشنی میں کرے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کوئی تدبیر کسی دوسرے انسان کے خلاف نہیں ہوگی۔کوئی تدبیر کسی انسان کو بے عزت کرنے کیلئے نہیں ہوگی۔کوئی تدبیر کسی انسان کے جذبات کو مجروح کرنے کے لئے نہیں ہوگی کہ جو حفاظت اللہ نے اسے دی ہے۔اس حفاظت کو وہ توڑنے والی ہو۔میں اس وقت زیادہ تفصیل میں نہیں جاسکتا۔سینکڑوں باتیں ہیں جن کا قرآن کریم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور آپ کے اُسوہ سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِین کے گروہ کی کوئی تدبیر ایسی نہیں ہوتی جس کے