انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 674
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۷۴ سورة البينة ہے کہ اگر ہم تدبیر کریں تو پھر ہماری مرضی چلے گی جو خدا چاہے گا وہ نہیں ہوگا۔ایک سیکنڈ کے لئے بھی ہم یہ تصور اپنے دماغ میں نہیں لا سکتے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تدبیر ضرور کرو ہو گا وہی جو خدا چاہے گا لیکن تم پر یہ فرض ہے کہ تم جائز تدابیر سے کام لو جو شخص اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی نعمتوں سے کام نہیں لیتا وہ اللہ تعالیٰ کا ناشکرا اور اس کا کفر کرنے والا ہے اور وہ شرک میں ملوث ہے تو مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کے اس فقرہ میں دین بمعنی تدبیر یہ مضمون بیان کرتا ہے کہ جائز تد بیر ضرور کرنی ہے۔دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ تم جو بھی تدبیر کرو اس میں اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص ہو۔اسے تم عبادت کا حصہ بناؤ۔صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو اپنے کمال پر پہنچنے کی وجہ سے (اگر مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین پر عمل کیا جائے ) تو ہر دنیوی تدبیر کو عبادت کا رنگ دے دیتا ہے۔ایک شخص اپنے گھر کے کمروں میں روشندان بناتا ہے وہ یہ نیت بھی کر سکتا ہے کہ ہوا آئے گی، روشنی آئے گی ، دھوپ آئے گی مجھے اور دنیوی فائدہ حاصل ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم اس نیت کی بجائے یہ نیت کرو کہ کان میں اذان کی آواز آئے گی۔وقت پر باجماعت نماز کے لئے پہنچ جاؤں گا تو یہ اس روشن دان کی تدبیر اخلاص کے اس پہلو کی وجہ سے عبادت بن جائے گی۔روشن دان اسی طرح دھوپ دے گا کوئی فرق نہیں پڑے گا۔گرم اور گندی ہوا اسی طرح باہر نکل جائے گی۔روشنی بھی اسی طرح آئے گی لیکن یہ تدبیر عبادت بن جائے گی کیونکہ تم نے نیت یہ کی کہ اذان کی آواز سننے کے لئے میں نے ایک راستہ رکھا ہے۔انسان کے محبت کے تعلقات طبعی طور پر بعض دوسرے انسانوں سے ہوتے ہیں، بیوی سے، بچوں سے، بھائی بہنوں سے، بڑے گہرے دوستوں سے محبت اور اخوت کا تعلق ہوتا ہے۔یہ تعلق سارے انسان ہی ایک دوسرے سے قائم کرتے ہیں لیکن جو سچا اور حقیقی عبد نہیں، حقیقی مسلمان نہیں وہ ان تعلقات کو محض ایک دنیوی تدبیر سمجھتا ہے۔بیوی کو خوش کرنے کیلئے وہ بہت سی باتیں کرتا ہے۔وہ چھوٹی عمر کے بچوں کو خوش کرنے ، ان کو بہلانے اور انہیں کھیل کود میں مصروف رکھنے کیلئے بہت سی باتیں کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم تمہیں ایک راستہ ایسا بتاتے ہیں کہ تم تمام جائز دنیوی تدابیر کو دینی رنگ دے سکتے ہو اور میری رضا کو ان کے ذریعہ سے حاصل کر سکتے ہو لیکن جو شخص تدبیر میں خلوص نیت کے۔