انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 673
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۷۳ سورة البينة انسان کبھی ظالم نہیں ہوگا کیونکہ وہ اس یقین پر کھڑا ہو گا کہ بادشاہت اللہ کی ہے۔اللہ تعالیٰ کے نمائندہ ہونے کی حیثیت سے ( باپ ہونے کی حیثیت سے، ماں ہونے کی حیثیت سے، ماسٹر ہونے کی حیثیت سے یا پرنسپل ہونے کی حیثیت سے، اپنی جماعت کے صدر یا سیکرٹری ہونے کی حیثیت سے یا دوسری ہزارحیثیتوں میں) انسان کو طاقت اور غلبہ ملتا ہے صرف کسی ملک یا قوم کی بادشاہت کی حیثیت سے ہی نہیں۔انسان یہ کہتا ہے کہ یہ طاقت اور غلبہ تو دراصل خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہوتا ہے۔وہی ہر چیز کا مالک ہے اس نے مجھے طاقت اور غلبہ میں جس کا وہ منبع اور سر چشمہ اور حقیقی مالک ہے اس لئے شامل کیا ہے کہ میں اس کی مخلوق کی بھلائی کے کام کروں۔ایسا انسان ظلم کر ہی نہیں سکتا۔غرض الدین کے ایک معنی غلبہ کے بھی ہیں اور صحیح عبادت کا ساتواں تقاضا یہ ہے کہ وہ غلبہ مُخْلِصِينَ لَہ ہو یعنی خالص اللہ کے لئے انسان اپنے اپنے ماحول میں اپنے غلبہ کا استعمال کرنے والا ہواور خدا کی حمد کے جذبہ کو انسان کے دل میں پیدا کرنے والا ہو تکبر اور ظلم اور دوسری ایسی برائیاں جو اللہ کی طرف منسوب ہونے والوں میں نہیں پائی جانی چاہئیں وہ اس میں نہیں پائی جانی چاہئیں۔باقی حصہ میں انشاء اللہ پھر بیان کروں گا۔آمین خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۷۸ ۵ تا ۵۸۷) اسلام نے قرآن کریم میں ہمیں یہ بتایا ہے کہ عبادت کے یہ معنی نہیں کہ انسان دنیا سے علیحدہ ہو جائے اور بظاہر خدا تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے بلکہ حقیقی عبادت کے بہت سے نقاضے ہیں اور یہ ضروری ہے کہ انسان سب تقاضوں کو پورا کرنے والا ہو۔عبادت الہی جو ذمہ داریاں انسان پر عائد کرتی ہے ان ذمہ داریوں کو نباہنے والا ہو۔جیسا کہ میں نے بتایا تھا یہ مضمون مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ کے فقرہ میں بیان ہوا ہے۔یعنی صرف عبادت کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ یہ کہہ کر عبادت کا حکم دیا گیا ہے کہ عبادت کرو اور دین کو اس کے لئے خالص کر وتب عبادت کے تقاضے پورے ہوں گے۔عبادت کے سات تقاضوں کے متعلق میں پچھلے دو خطبات میں بیان کر چکا ہوں۔دین کے آٹھویں معنی تدبیر کے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم میری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکو گے اگر تمہاری تدابیر خالصہ میرے لئے نہ ہوں۔اس سے ہمیں پہلی بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ اسلام نے تدابیر کو نہ صرف جائز قرار دیا ہے بلکہ تدبیر کو عبادت کا ایک حصہ بنا دیا ہے۔ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانے اور پھر یہ سوچنے یا یہ کہنے کو بُرا سمجھا ہے کہ جو خدا چاہے گا وہ ہو جائے گا جس کا حقیقتاً یہ مطلب ہوتا