انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 672 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 672

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۷۲ سورة البينة اللہ کے سوا وہ کونسی ہستی ہے جو کسی چیز کی بھی مالک ہو اور جو بھی غلبہ اور طاقت ملتی ہے وہ خدا تعالیٰ سے ہی ملتی ہے۔وَاللهُ يُؤْت مُلكَهُ مَنْ يَشَاءُ (البقرة: ۲۴۸) اللہ جسے چاہتا ہے طاقت اور غلبہ اور حکومت دیتا ہے۔حکومت سے مراد صرف کسی قوم یا ملک کی بادشاہت نہیں بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہر ایک گھر کا ایک بادشاہ ہے۔اپنے ماحول کا ایک بادشاہ ہے سکول کا ایک بادشاہ ہے یعنی اپنے اپنے ماحول میں ہر ایک کو طاقت اور غلبہ حاصل ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ملک اور طاقت اور غلبہ اور بادشاہت تو اللہ کی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کا ملہ سے اپنے بندوں میں سے بعض کو کسی نہ کسی رنگ میں غلبہ یا اثر ورسوخ دیتا ہے۔طاقت عطا کرتا ہے اس لئے تم اس طاقت اور غلبہ اور اثر کو اسی طرح استعمال کرو جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور جس طرح اس نے ایک اور آیت میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ذلِكُمُ اللهُ رَبِّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ ( فاطر :١٤) لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الحمد (التغابن : ۲) یعنی اللہ تعالیٰ رب ہے۔ساری بادشاہت اور غلبہ اور طاقت اس کو حاصل ہے جہاں تک تمہارا تعلق ہے لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمدُ تم اپنی زندگیوں کو اس طرح گزارو کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت اور اس کے مالک ہونے کا احساس دنیا میں پیدا ہو اور یہ احساس پیدا ہو کہ وہ تمام تعریفوں کا مستحق ہے کیونکہ جو اس کے بندے بن جاتے ہیں وہ ایسے کام کرتے ہیں کہ انسان کو مجبور ہو کر ان کی تعریف کرنی پڑتی ہے اور جب انسان کو مجبور ہو کر اللہ کے بندوں کی تعریف کرنی پڑتی ہے تو اللہ جس نے اس بندہ کو پیدا کیا کس قدر تعریف اور حمد کا مستحق ہے۔جس کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنی طاقت کے استعمال میں تمام بدیوں سے اپنے آپ کو اس طرح بچائے کہ انسانی عقل اس سے یہ نتیجہ نکالے کہ جس اللہ کی طرف یہ منسوب ہونے والا ہے اس کی حمد۔اس کی تعریف الفاظ اور بیان سے باہر ہے۔ایسے انسان میں تکبر نہیں پیدا ہوتا کیونکہ جب انسان اس یقین پر قائم ہو کہ تمام طاقت اور غلبہ اور بادشاہت اللہ کی ہے۔وَاللهُ يُؤْتِ مُلكَهُ مَنْ يَشَاءُ (البقرة :۲۲۸) انسان کو جو کچھ ملتا ہے وہ اللہ کی منشا اور ارادہ سے ملتا ہے تو پھر اس کی اپنی تو کوئی خوبی نہ رہی۔اس لئے اس کی زبان پر اپنی بڑائی کی بجائے لا فخر کا نعرہ ہوتا ہے۔یعنی وہ کہے کہ مجھ میں کوئی فخر کی بات نہیں۔میں اپنے اندر کوئی خوبی نہیں پاتا۔اللہ تعالیٰ نے محض اپنے رحم اور فضل سے مجھے یہ عطا کیا ہے اور ایسا شخص کوئی ایسا کام نہیں کر سکتا جو اللہ کی مخلوق کو دکھ پہنچانے والا ہو۔ایسا