انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 671 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 671

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۷۱ سورة البينة چھٹا تقاضا جو اللہ تعالیٰ کی عبادت ہم سے کرتی ہے یہ ہے کہ انسان اپنی اس زندگی میں بہت سی عادتیں پیدا کر لیتا ہے وہ عادتیں پختہ ہو جاتی ہیں۔ان عادات کے متعلق بھی ہر وقت ہوشیار اور چوکنا رہ کر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے۔مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ۔الدین کے ایک معنی عادت کے بھی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے اندر یا ان لوگوں میں جن کے تم راعی مقرر کئے گئے ہو کوئی ایسی عادت نہیں پیدا ہونی چاہیے جو عبادت میں اخلاص کے سوا کچھ اور ہو یعنی جو اللہ تعالیٰ سے تعلق کو قائم کرنے کی بجائے خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والی ہو۔ماحول کے بداثرات عادات بد پیدا کر دیتے ہیں اور ان کے بہت بھیانک نتائج نکلتے ہیں۔تمہاری عادات بھی خالصہ اللہ کے لئے اور اس کی رضا کی تلاش میں ہونی چاہئیں۔وہ اس غرض سے ہونی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا ہمیں حاصل ہو۔۔۔۔۔۔۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم اس بات کا خیال رکھو کہ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ جو عادت بھی تمہارے اندر پیدا ہو وہ ایسی نہ ہو کہ نیک اعمال میں روک بنے غیر اللہ کے سامنے جھکنے پر مجبور کرے۔حقوق العباد کی ادائیگی میں روک پیدا کرے۔اس کے مقابلہ میں ایسی عادت ڈالوجن کے نتیجہ میں نیک اعمال بشاشت سے سرزد ہوتے رہیں جن کے نتیجہ میں انسان اپنی طبیعت اور عادت سے مجبور ہو جائے کہ ہر وقت خدا تعالیٰ کے سامنے سر بسجو د رہے اور اس کے ذکر میں محور ہے اور جن کے نتیجہ میں جب اللہ تعالیٰ کے احکام کو دیکھ کر بنی نوع انسان کی ہمدردی جوش میں آئے تو ہر انسانی عادت بنی نوع انسان کی ہمدردی پر اُسے مجبور کر رہی ہو اور قومی خدمت میں سست نہ کر دے۔ساتواں تقاضا اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے ہم سے یہ کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اس دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنایا ہے کہ تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے ماحول میں ایک حاکم کی حیثیت رکھے گا اور وہ اپنے ماحول پر غالب ہو گا۔تم راعی بن جاؤ گے۔ایسے حالات میں تم میں سے جسے جس حد تک غلبہ اور طاقت اور اثر اور نفوذ حاصل ہو وہ اسے اللہ تعالیٰ کے لئے خالص کر دے یعنی وہ اپنے غلبہ اور طاقت کا غلط استعمال نہ کرے بلکہ اس کا ایسے رنگ میں استعمال کرے کہ اللہ کی رضا اور خوشنودی اسے حاصل ہو اور جو کچھ کیا جائے اس کی اطاعت میں کیا جائے۔ہمارے ہاں کہتے ہیں اللہ مالک ہے یہ محاورہ بڑا پیارا ہے حقیقت یہی ہے کہ اللہ ہی مالک ہے۔