انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 666
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۶۶ سورة البينة جہالت اور گمراہی کے نتیجہ میں بسا اوقات اپنی پرستش میں غیر اللہ کو شامل کر لیتا ہے اور غیر اللہ کی یہ عبادت بعض دفعہ ظاہری ہوتی ہے۔بعض دفعہ خفیہ اور باطنی ہوتی ہے مثلاً بعض لوگ انسان کی پرستش شروع کر دیتے ہیں اس کی عبادت کرنے لگ جاتے ہیں اور منتیں ماننے لگ جاتے ہیں یا بے جان مخلوق کی پرستش شروع کر دیتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ اس مخلوق کو خوش کر کے یا ان کی وساطت سے اللہ خالق ہر دو جہان کو خوش کر کے کوئی فائدہ اُٹھا لیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمہیں اس لئے پیدا کیا ہے کہ ہر قسم کی عبادات صرف میری ہی کی جائیں اور میرے غیر کو عبادت اور پرستش میں شریک نہ کیا جائے یعنی توحید خالص ہو۔(۱) خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے (خواہ بت ہو یا انسان ، سورج ہو یا چاند یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکر وفریب ( ہو ) منزہ سمجھنا۔(۲) ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذات باری کسی میں قرار نہ دینا اور جو بظاہر ربّ اور فیض رساں نظر آتے ہیں یہ اس کے ہاتھ کا ایک نظام یقین کرنا۔دین کے دوسرے چسپاں ہونے والے معنی کی رُو سے مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ اپنی اطاعت اور فرمانبرداری کو صرف اللہ کے لئے خالص کر دو کیونکہ الدین کا لفظ الطاعَةُ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔صرف عبادات ہی کو اللہ کے لئے خالص نہیں کرنا بلکہ اطاعت اور فرمانبرداری کو بھی اللہ کے لئے خالص کر دینا ہے یعنی محبت واطاعت وغیرہ شعار عبودیت میں دوسرے کو خدا تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہرانا اور اسی میں کھوئے جانا۔۔۔۔۔۔۔۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ ہی کے لئے اطاعت کو اور فرمانبرداری کو خالص رکھنا۔کسی قسم کے دباؤ کے نتیجہ میں اس کی اطاعت اور فرمانبرداری نہیں کرنی کیونکہ اس صورت میں تو وہ غیر تمہیں اگر اس کی طاقت ہو اس فرمانبرداری کی جزا دے گا جس کے ڈر سے یا جس کو خوش کرنے کے لئے تم نے ظاہرۃ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی لیکن اس وجود میں یہ طاقت نہیں تمہارا فعل بے نتیجہ نکلے گا اور تمہیں کوئی اچھابدلہ نہیں ملے گا۔اس سے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے جیسا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر میں بیان فرمایا ہے کہ بہت سی غیر اللہ کی اطاعتیں ہمیں ایسی بھی نظر آتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔