انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 664
۶۶۴ سورة القدر تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث قبول نہیں ہوتا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔انسان سینکڑوں نہیں ہزاروں نوافل پڑھے اگر ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تو وہ بالکل بے فائدہ ہیں۔غرض یہ دونوں دعائیں یعنی استغفار اور خدا تعالیٰ کی رضاء کی جنت کے ملنے اور خاتمہ بالخیر کی دعا بڑی کثرت سے کرنی چاہئیں اور ان دنوں میں ان پر خاص زور دینا چاہیے یعنی خدا تعالیٰ سے اس کا عفو اور مغفرت بھی طلب کرنی چاہیے اور اس کی بارگاہ میں یہ بھی عرض کرنا چاہیے کہ یا الہی ہم کمزور ہیں ہمارے ہر اس فعل میں جسے ہم نے عمل صالح سمجھ کر کیا ہے بہت سی کوتاہیاں اور غفلتیں رہ گئی ہیں تو ہمیں معاف فرما۔تو بڑا عفو کر نے والا ہے اور تیرے عفو کے مقابلہ میں ہماری کوتاہیاں اور غفلتیں کوئی چیز نہیں تو ہماری کمزوریوں کی طرف نگاہ نہ فرما بلکہ اپنی صفت عفو کی طرف نگاہ کر تو بڑا بخشنے والا اور معاف کرنے والا ہے۔اپنی اس صفت کے صدقے تو ہماری خطائیں معاف کر۔گناہ بخش اور ہمارا انجام بخیر کرتے ہوئے ہمیں اپنی جنت میں داخل فرما۔اس کے علاوہ اگر قبولیت دعا کی گھڑی یعنی لیلتہ القدر میسر آ جائے تو اجتماعی دعا یہ کرنی چاہیے کہ اے خدا د نیا تجھے سے دور ہو گئی ہے وہ تجھے پہچانتی نہیں۔تیرے احسانوں کی وہ قدر نہیں کرتی۔اے خدا! تو ایسے سامان پیدا کر دے کہ تیری عظمت تیری کبریائی ، تیری توحید، تیرا جلال اور تیری محبت سب انسانوں کے دلوں میں پیدا ہو جائے۔اے خدا! دنیا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا بلکہ اس نے سرکشی کرتے ہوئے آپ کو دھتکار دیا ہے۔اے خدا تو ایسے سامان پیدا فرما کہ جن سے اسلام ہماری زندگی میں ہی تمام دنیا پر غالب آ جائے اور ہم آپ کے جھنڈے کو ہر ملک کے بلند پولوں (Poles) سے لہراتا ہوا دیکھیں۔بہر حال ان دنوں اپنے لئے خدا تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی جنت کے حصول کی دعائیں کرنی چاہئیں اور اجتماعی لحاظ سے خدا تعالیٰ کی عظمت، کبریائی ، توحید اور جلال کے قیام اور اسلام کے غلبہ کے لئے بڑی کثرت سے دعا ئیں کرنی چاہئیں۔خطبات ناصر جلد اول صفحہ ۹۹٬۹۸)