انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 663
تغییر حضرت علیلیه اسبح الثالث ۶۶۳ سورة القدر تھے ایک وہ زمانہ جب لیلتہ القدر میں یہ فیصلہ ہوا کہ پہلی تین صدیوں میں اس وقت کی معروف دنیا میں انسانوں کو زمین سے اٹھا کر آسمانوں تک پہنچا دیا جائے گا اور دوسرا اسی لیلتہ القدر میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل آپ کے بروز کے ذریعہ تمام اقوام عالم کو پھر اٹھایا جائے گا۔ان کو زمین سے اٹھا کر آسمانوں تک پہنچا دیا جائے گا۔(خطبات ناصر جلد دہم صفحه ۴۱ تا ۴۴) پس ان آخری دنوں میں اعتکاف بیٹھنے کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ لیلتہ القدر کی تلاش کی جائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس رات کی تلاش کیلئے ان دنوں میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے۔اور اللہ تعالیٰ جس کو یہ رات دکھا دے اور جس خوش قسمت کو وہ گھڑی نصیب ہو جائے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں بڑی کثرت سے سنتا ہے تو اسے اس سے پورا پورا فائدہ اُٹھانا چاہیے اور اس رات کی تلاش سے پہلے اسے یہ سوچ لینا چاہیے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے قبولیت دعا کی یہ گھڑی نصیب کر دی تو وہ اس میں کون کون سی دعا کرے گا۔احادیث میں ہے کہ حضرت عائشہ نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ میں نوافل بھی پڑھوں گی اور دعائیں بھی کروں گی لیکن آپ مجھے یہ بتائیں کہ اگر مجھے لیلتہ القدر کی گھڑی نصیب ہو جائے تو اس میں میں کون سی دعا کروں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس گھڑی میں تم اپنے گناہوں کی مغفرت چاہو۔پس استغفار ایک بنیادی دعا ہے اس کے بغیر حقیقتاً ہماری زندگی زندگی ہی نہیں رہتی نہ دنیوی زندگی باقی رہ سکتی ہے اور نہ اُخروی زندگی۔نہ مادی زندگی باقی رہ سکتی ہے اور نہ روحانی زندگی۔اس دنیا میں جو مختصر زندگی ہمیں ملتی ہے اس میں ہم اس قدر غلطیاں کرتے ہیں اتنی کو تا ہیاں ہم سے سرزد ہوتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور عفونہ ہو اور وہ اس دنیا میں یا اگلی دنیا میں ہمیں پکڑ نا چاہے تو ہمارے لئے راہ نجات ممکن ہی نہیں۔لیلتہ القدر کی گھڑی میں جو دعائیں مانگنی چاہئیں ان میں سے دو بنیادی اور انفرادی دعا ئیں استغفار اور خاتمہ بالخیر کی دعا کرنا ہے۔استغفار یعنی اپنے گناہوں کی مغفرت چاہنا اور اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں پر پردہ پوشی کی درخواست کرنا اور خاتمہ بالخیر ہو جائے تو پھر پچھلی غلطیاں شمار نہیں ہوتیں۔وہ سب معاف ہو جاتی ہیں۔اس لئے دعا کرنی چاہیے کہ خدا تعالی خاتمہ بالخیر کرے اور اپنی رضا کی جنت ہمیں نصیب کرے۔کوئی شخص اپنی زندگی میں کتنا ہی کام کرتار ہے اگر وہ خدا تعالیٰ کی درگاہ میں