انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 662
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث انتظام کیا جائے گا۔۶۶۲ سورة القدر کامل اور مکمل شکل میں جو تعلیم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اس کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ شرف کا اور عزت کا سامان لے کر آئی ہے اس نے کسی کے ساتھ بخل نہیں کیا بلکہ اس نے سفید کو بھی گندمی اور کالے رنگ والے کو بھی یہ کہا پڑھے ہوئے کو بھی اور علم میں پسماندہ کو بھی یہ کہا کہ اگر تم اس دنیا میں اور اس دنیا میں حقیقی عزت اور شرف حاصل کرنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ تم قرآن کریم کی تعلیم کو سمجھو اور اسی کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالو۔پس لیلۃ القدر میں اصل تو یہ فیصلہ تھا اور دوسرے یہ فیصلہ تھا اور اس کی علامت یہ بتلائی گئی تھی کہ انسان چونکہ کمزور ہے اور اپنے زور اور طاقت سے کچھ نہیں کر سکتا اس لئے اسے اپنے رب سے تعلق پیدا کر کے طاقت اور قدرت حاصل کرنی پڑے گی۔اور اللہ تعالیٰ کی رحمت جس پر یا جن پر نازل ہوگی وہ فرشتوں کے ذریعہ سے نازل ہوگی اور جب انسان اپنے رب سے تعلق کو قائم کرے گا تو پھر اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دے گا کہ آسمان سے فرشتے ان پر نازل ہوں گے وہ ان کے لئے بشارتوں کے سامان لے کر آئیں گے وہ ان کے لئے بشاشتوں کے سامان لے کر آئیں گے وہ ان کے لئے اطمینان اور بے خوفی کا پیغام لے کر آئیں گے اور ان کے لئے اپنے ہاتھ میں مدد اور نصرت کے جھنڈے پکڑ کر آسمان سے زمین پر اتریں گے۔قرآن کریم نے اسے تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن کس پر اور کب اتریں گے اس کا تعلق بھی رمضان سے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے بتایا تھا کہ اصل اور حقیقی لیلتہ القدر کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہے اس وقت آسمانوں پر بنی نوع انسان کے لئے کچھ فیصلے کئے گئے تھے جن میں بنیادی فیصلہ یہ تھا کہ انسان کی عزت اور شرف کو بلند کیا جائے گا اور اس کو یہ موقع میسر آئے گا کہ وہ پہلوں کی نسبت زیادہ تر معرفت حاصل کرے اور زیادہ بصیرت کے ساتھ اللہ کی صفات کو پہچانے اور اس کے حسن واحسان کے نور سے حصہ لے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے انسان کو ایک کامل اور مکمل تعلیم دے دی گئی ہے پہلوں کو ایسی تعلیم نہیں دی گئی تھی صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ایسی کامل تعلیم انسان کو دی گئی اس سے ہمیں یہ پتہ لگتا ہے کہ انسانی شرف کی بلندی کے لئے دوزمانے مقدر