انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 660 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 660

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۶۰ سورة القدر جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندے! میں تجھے یہاں طاقت دینے کے لحاظ سے کھڑا نہیں رہنے دوں گا بلکہ میں تجھے پہلے سے بڑھ کر نیکیاں بجالانے کی توفیق عطا کروں گا لیکن میں نے وہ اختیار تجھ سے نہیں چھینا اس لئے شیطان سے ہوشیار رہ کر اپنا اگلا سال گذار نا پھر اسی طرح انسان کی زندگی کے سارے سال گذرتے رہتے ہیں۔پس اصل بات یہی ہے کہ وہ گھڑی خواہ وہ ایک سیکنڈ کی ہو یا ایک گھنٹے کی یا ایک رات کی ہو جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو یہ بشارت ملتی ہے کہ میں نے تیری نیکیوں کو قبول کیا اور میں نے پہلے سے بھی زیادہ نیکیاں کرنے کی تجھے تو فیق عطا کی۔ایسی گھڑی ساری عمر سے بڑی ہے خواہ وہ عمر تر اسی سال چار ماہ کی ہی کیوں نہ ہو۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے زیادہ بزرگی والی زیادہ عزت والی زیادہ فائدہ والی اور زیادہ خیر والی ہے۔تر اسی ، اتنی سال کی ایسی تدبیر جو قبولیت حاصل نہیں کر سکتی۔ایسا مجاہدہ جور د کر دیا جاتا ہے ایسی دعا ئیں جو واپس منہ پر مار دی جاتی ہیں ان کے مقابلہ میں پیار کی ایک گھڑی جس میں انسان اپنے خدائے قادر کی محبت کو دیکھتا ہے ایسی گھڑی کہیں زیادہ خیر اور برکت والی ہوتی ہے۔انسان رمضان کے آخری عشرہ میں اسی مبارک گھڑی کی تلاش میں لگا رہتا ہے اور اپنے رب پر پوری طرح حسن ظن رکھتا ہے بہت سے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی غفلتوں پر اللہ تعالیٰ کی مغفرت پردہ ڈال دیتی ہے اور جن کے کام اور اعمال مقبول ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فیض کو وہ حاصل کرتے ہیں مگر یہ لیلتہ القدر یعنی مبارک گھڑی اصل لیلتہ القدر کی ایک ذیلی چیز یا بطور ضمیمہ کے ہے۔میں نے بتایا تھا کہ اگر چہ ظلمات اور اندھیرے اور تاریکیاں اور گناہ اور فساد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی انتہا کو پہنچ گئے تھے اور وہ زمانہ ایک ایسی تاریک رات کے مشابہ تھا کہ جس سے زیادہ تاریک رات کسی انسان نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی مگر یہ بھی صحیح ہے کہ اس تاریک ترین زمانہ میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔اس تاریک ترین رات میں وہ انتہائی طور پر چمکتا ہوا اور فیوض سے بھرا ہوا اور رحمتوں سے پرنور آسمان سے نازل ہوا کہ جس کے فیوض اور روحانی تاثیرات نے قیامت تک اثر کرنا تھا۔یہ تو درست ہے لیکن اس کے نتیجہ میں ہر انسان کے لئے خوشحالی کا زمانہ پیدا نہیں کیا گیا۔بلکہ ہر انسان کو یہی کہا گیا ہے کہ اسے اپنے لئے خوشحالی کا