انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 659 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 659

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۶۵۹ سورة القدر سے بچتے رہنا اور میں نے تجھے اس سے بچنے کی قوت دی ہے لیکن تجھ سے اختیار کو چھینا نہیں یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی انسان کو کسی نیکی کی قوت اور توفیق اور طاقت عطا کرتا ہے تو اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ اس کو جو اختیار دیا گیا تھا خواہ وہ نیکی کرے یا بدی کرے یہ اختیار اس سے چھین لیا گیا اور وہ ایک فرشتے کی طرح بن گیا حالانکہ انسان تو کبھی فرشتہ نہیں بنتا۔انسان یا تو فرشتے سے اوپر درجہ رکھتا ہے یا فرشتے سے کم تر ہوتا ہے بہر حال انسان فرشتہ نہیں بن سکتا۔پس اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کو ایک تو یہ بشارت دی کہ میں نے تیری نیکیاں قبول کیں اور دوسرے اللہ تعالیٰ نے اس کو پہلے سے زیادہ یہ قوت دی (اگر چہ پہلے بھی اسی کی توفیق اور طاقت سے نیکیاں بجا لانے کی سعادت نصیب ہوتی رہی مگر اس لیلتہ القدر کے میسر آجانے پر پہلے سے زیادہ نیکیوں کے کام کرنے کی قوت دی گئی لیکن اختیار پھر بھی بندے کے ہاتھ میں رہا۔پھر ایسا شخص اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے دعائیں کرنے میں لگا رہتا ہے عبادات بجالاتا ہے۔مخلوق خدا کے ساتھ ہمدردی اور غم خواری سے پیش آتا ہے۔ان کے دکھوں کو خود جھیلتا ہے اور ان کے غم میں شریک ہوتا ہے غرض وہ ہر قسم کے حقوق اللہ کو بھی اور حقوق العباد کو بھی ادا کرتا ہے۔پھر اگلا رمضان آ جاتا ہے اور وہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی عبادات بجالانے کے لئے شَدَّ مِنزَرَہ کا مصداق بن جاتا ہے۔پوری طرح مستعد اور تیار ہو جاتا ہے کیونکہ اس ماہ مبارک میں بہت ساری عبادتیں اکٹھی کر دی گئی ہیں وہ اپنی طرف سے رمضان کی عبادتیں بجا إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَلَمِثْزَرَهُ وَأَحْيَا لَيْلَهُ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ (بخاری کتاب الصوم باب الْعَمَلُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ) لاتے ہوئے رمضان کے آخری عشرہ میں پہنچ جاتا ہے تو اس کا دل کہتا ہے کہ اس نے اپنی طرف سے سارے اعمال خدا کے لئے کئے لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے اعمال قبول بھی ہو گئے یا نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے اس کے اعمال کی کسی خرابی یا بیماری یا کسی اندرونی کیڑے کی وجہ سے اس کے وہ سارے اعمال جنہیں وہ سارا سال بجالا تا رہا ہے اور جنہیں ماہ رمضان میں اور بھی زیادہ تندہی اور مستعدی کے ساتھ بجالا یا وہ عنداللہ مقبول نہ ہوں چنانچہ پھر وہ سال نو کی ایک نئی لیلتہ القدر کی تلاش میں رمضان کے آخری عشرہ کی راتوں میں تعہد کے ساتھ خود بھی جاگتا اور اپنے اہل کو بھی جگاتا ہے اور فدائیت کے ساتھ ان راتوں کو زندہ رکھتا ہے پھر اگر اللہ تعالیٰ فضل کرے تو اسے اس قسم کی دونوں قدرتوں یا قدرت کے دونوں پہلوؤں کے حسین جلوے دکھائی دیئے