انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 655
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث سورة القدر جب سورج نصف النہار پر ہوتا ہے اور ہر چیز پوری طرح روشن ہوتی ہے اس وقت کسی خطہ ارض پر پڑ رہی ہولیکن اس خطہ کے مکین اپنی آنکھوں کے نور سے محروم ہوں تو سورج بے شک چمکتا رہے ان کے اندھیرے روشنی میں نہیں بدلیں گے اس لئے اگر چہ رات بڑی اندھیری تھی ایسی اندھیری رات کہ اس سے قبل اس قسم کی اندھیری رات کبھی نہیں آئی تھی اور بعد کی اندھیری رات کا لفظ اس لئے ہم یہاں نہیں کہہ سکتے کہ آپ کا زمانہ قیامت تک پھیلا ہوا ہے۔پس یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ کوئی رات دنیا میں اتنی اندھیری نہیں تھی جتنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی نبوت کے وقت اندھیری تھی اور اس میں بھی شک نہیں کہ ان اندھیروں کو دور کرنے کے لئے شدت ظلمات کی مناسبت سے ایک ایسا نور آسمان سے نازل ہوا جس کی نورانیت کا پہلے زمانے مقابلہ ہی نہیں کر سکتے لیکن اس کے باوجود اس نور سے منور وہی ہوگا جسے روحانی طور پر آنکھ ملے گی، جسے روحانی طور پر آنکھ نہیں ملے گی جو روحانی طور پر اندھا ہوگا وہ دراصل روحانی لحاظ سے مُردہ ہو گا وہ اس عظیم محمدی نور سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔اس لئے اس لیلتہ القدر کے ساتھ روحانی لیلتہ القدر کا پایا جا نالازمی تھا۔پس اصل میں تو یہ لیلتہ القدر ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ، جو فساد میں ، تاریکی میں اللہ تعالیٰ سے دوری میں اپنی انتہا کو پہنچا ہوا تھا اور ان تاریکیوں کو دور کرنے کے لئے وہ نور بھی ایسا تھا کہ جو کامل اور مکمل اور جس میں ہر قسم کے فسادات کو دور کرنے کی قابلیت اور طاقت اور جس کا زمانہ قیامت تک پھیلا ہوا ہے۔آپ پر اس نور کے نزول کے ساتھ ہی فساد اور تاریکیاں اور اندھیرے جو اپنی انتہا کو پہنچے ہوئے تھے دور ہونے لگے مگر شروع میں صرف فائدہ انہوں نے ہی اُٹھایا جن کو اللہ کی توفیق سے دیکھنے کی آنکھیں ملیں اور جن کے ذریعہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے نور کو دیکھنے کی توفیق پائی مکہ میں اس نور کا نزول شروع ہوا اور بعثت نبوی سے قبل مکہ معظمہ جو اپنی ظلمت اور ضلالت میں دوسرے شہروں کو بھی مات کر رہا تھا۔جب اس میں محمد انور کا نزول شروع ہوا تو ظلمت دلوں سے چھٹنی شروع ہوگئی تھی مکہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی پیدا ہوئے جنہیں ان کے پیدا کرنے والے ربّ نے روحانی آنکھ دے رکھی تھی اور جنہوں نے اس نور سے فائدہ اٹھایا اور اسی مکہ میں اسی شہر میں جس کے ذرے ذرے کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نے منور کر دیا تھا ابو جہل بھی پیدا