انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 649 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 649

تفسیر حضرت علیله اسی اثاثے ۶۴۹ سورة القدر سنتا ہے کہ ان میں سے بہتوں کو بتا بھی دیتا ہے کہ آج اُمت کی اجتماعی لیلتہ القدر ہے لیکن ان کے علاوہ بھی جو اُمتِ مسلمہ کے افراد ہوں اگر چہ ان کو علم نہیں دیا جاتا کہ وہ رات دعاؤں کی قبولیت کی رات ہے پھر بھی ان کی ایسی دعاؤں کو جو خدائے عظیم اور کبیر کے ارادہ اور منشاء کے مطابق ہوں قبول کیا جاتا ہے اور اس طرح اُمتِ مسلمہ کی بقاء اور اس کی ترقی کے سامان پیدا کئے جاتے ہیں اور جس وقت اُمت بحیثیت امت اسلام پر قائم نہ رہے اور لیلۃ القدر کی برکتوں سے محروم ہو جائے اس وقت امت پر تنزل کا زمانہ آ جاتا ہے یہ دور ہمیں اسلامی تاریخ میں نظر آتے ہیں اور اگر ہم اس کی چھان بین کریں تو یقینا اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ تنزل کا زمانہ وہ ہوتا رہا ہے جب اُمتِ مسلمہ نے اسلامی احکام کو پس پشت ڈال دیا اور قرآن کریم کو کتاب مہجور سمجھ لیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں دینی چھوڑ دیں اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث نہ رہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو گئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ رمضان کی ایک رات ایسی ہے جو ایک ہزار مہینے سے بھی زیادہ اچھی ہے کیونکہ عربی محاورہ میں ہزار کا لفظ ان گنت اور بے شمار کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اس لئے اس کے معنی یہ ہوئے کہ ایک رات ایسی ہے جو بے شمار اور ان گنت مہینوں سے زیادہ برکت والی ہے اور جو شخص اس رات کی برکات سے محروم رہے وہ بڑا ہی محروم آدمی ہے اس سے زیادہ اور کون محروم ہو سکتا ہے؟ اور جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے اگر اُمت کے وہ افراد اور جب تک اُمت کے وہ افراد جو روحانی طور پر زیادہ قوتیں اور استعدادیں رکھنے والے ہوتے ہیں اور جو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی رحمتوں کے زیادہ وارث ہوتے ہیں وہ اُمت کے لئے اُمت کی دنیوی بہبود اور روحانی ترقیات کے لئے دعائیں کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ کے دین کے سب احکام بجالاتے رہیں اور اسلام کے ہر حکم کے نیچے اپنی گردن کو رکھنے والے ہوں اور انتہائی قربانیاں اس کے لئے دینے والے ہوں ان کی دعاؤں کو اللہ تعالیٰ رمضان کی اس لیلتہ القدر میں قبول کرتا ہے اور اس طرح اُمت مسلمہ ترقی کے دنیوی اور روحانی مدارج طے کرتی چلی جاتی ہے لیکن پھر ایک ایسا دور آتا ہے کہ جب اُمت بحیثیت مجموعی ایسی نہیں رہتی تب لیلتہ القدر سے وہ محروم ہو جاتی ہے اور اس کے نتیجہ میں تنزل کا دور اسلام پر آنا شروع ہو جاتا ہے۔اجتماعی طور پر لیلتہ القدروہ زمانہ بھی ہے جو ایک نبی کا زمانہ ہوتا ہے جو انتہائی فساد اور اندھیرے اور