انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 646
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۴۶ سورة القدر دوروں میں سے وہ رحم مادر میں گزرتا ہے اور پھر بہت سے ارتقائی دوروں میں سے وہ پیدائش کے بعد وہ اس دنیا میں گزرتا ہے پھر وہ اپنی بلوغت کو پہنچتا ہے جسمانی طور پر اگر وہ لمبی عمر پائے تو وہ انحطاط کے زمانہ کو پاتا ہے۔اس کے مشابہ مگر (ایک فرق کے ساتھ ) روحانی ارتقا اور روحانی نشونما بھی وہ حاصل کرتا ہے پہلے وہ تقویٰ کی موٹی موٹی راہوں پر چلتا ہے پھر وہ اس کتاب عظیم سے جو ھڈی لِلْمُتَّقِينَ ہے تقویٰ کی مزید باریک راہوں کا علم حاصل کرتا اور اس کے مطابق اپنی زندگی کے دن گزارتا ہے اسی طرح وہ روحانی ترقی کرتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اپنی روحانی بلوغت کو پہنچتا ہے جس کے بعد کوئی انحطاط نہیں اور یہ فرق ہے روحانی اور جسمانی بلوغتوں میں کہ جسمانی بلوغت کے بعد اس دنیا میں ایک انحطاط کا زمانہ بھی بہت سے لوگوں پر آتا ہے لیکن روحانی بلوغت کے بعد پھر انحطاط کا کوئی زمانہ روحانی بالغ پر نہیں آتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے لطیف رنگ میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔فرمایا جسے بشاشت ایمانی حاصل ہو جائے اس کو پھر شیطان کے حملوں کا کوئی خوف باقی نہیں رہتا الفاظ مجھے یاد نہیں اسی قسم کا مفہوم ہے یعنی جس کے اعمال صالحہ فطرت کا ایک حصہ بن جائیں اور ان کی بجا آوری میں وہ کوئی تکلیف یا کوفت محسوس نہ کرے اسے کسی قسم کی کوشش اور جدو جہد نہ کرنی پڑے بلکہ جس طرح وہ سانس لیتا ہے اور زندگی کو قائم رکھتا ہے اسی طرح ایسا شخص بشاشت کے ساتھ خدا تعالیٰ کے احکام کو بجالاتا ہے اور جس شخص کے دل میں اس قدر بشاشت اعمال صالحہ کے بجا لانے میں پیدا ہو اور خدا تعالیٰ کے لئے ہر دکھ جو وہ سہے دنیا اسے دکھ سمجھے تو سمجھے وہ اس میں لذت محسوس کرے اس بلوغت کے بعد کسی قسم کے روحانی انحطاط کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہی وہ کیفیت ہے بلوغت کی جس کی طرف قرآن کریم نے اس آیت میں اشارہ کیا ہے : يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْبِينَةُ - ارجعي إلى ربّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي (الفجر : ۲۸ تا ۳۱) تو اس دنیا میں دنیا کی اس زندگی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فیصلہ ہر فرد بشر کے متعلق کیا جاتا ہے ہر اس فرد بشر کے متعلق جو اپنی قربانیوں کو انتہاء تک پہنچاتا اور اپنے رب کی محبت میں اپنے نفس کو کلی طور پر مٹا دیتا اور اس پر ایک موت وارد کر دیتا ہے اس پر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے یہ بشارت دیتا ہے کہ اب تو ایسے مقام تک پہنچ گیا ہے کہ جنت کا یقینی طور پر ہمیشہ کے لئے تو وارث رہے گا اور شیطان تجھے بہکانے میں کامیاب نہیں ہوگا۔