انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 647 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 647

تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۴۷ سورة القدر یہ فیصلہ کی گھڑی اس شخص کے لئے لیلة القدر ہے کیونکہ اس میں وہ عظیم فیصلہ اس کی ابدی زندگی کے متعلق کیا جاتا ہے جو اس دنیا سے شروع ہوتی اور اس دنیا میں جا کے بھی ختم نہیں ہوتی بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لئے وہ اس کے لئے خوشیاں اور سرور پیدا کرتی رہتی ہے۔اتنا اہم فیصلہ جس گھڑی کیا جائے۔جب انسان کے تمام انفرادی اندھیرے یک قلم دور کر کے ان کی بجائے اللہ تعالیٰ کا نور اس کی روح اور اس کے جسم پر قبضہ کر لے۔اتنا عظیم فیصلہ جو ہے وہ اس فرد واحد کے لئے لیلتہ القدر کا حکم رکھتا ہے یہ انفرادی لیلۃ القدر ہے اور یہ لیلتہ القدر جو انفرادی ہے سال کے کسی حصہ میں آ سکتی ہے اس کے لئے رمضان کی کوئی شرط نہیں رمضان کے دس دنوں یا دس راتوں کی کوئی شرط نہیں اور دراصل اسی لیلتہ القدر کا ذکر عبد اللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کی روایتوں میں ہے کہ وہ سال کے کسی حصہ میں آسکتی ہے۔دوسری وہ لیلتہ القدر ہے جس کا تعلق رمضان سے اور رمضان کی آخری دس راتوں سے ہے اس کی حکمت جیسا کہ تفسیر کبیر میں بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کے ذریعہ ان کی اُمتوں سے ایک عہد لیا کرتا ہے اور اس کے مقابلہ میں ان سے بھی ایک عہد کرتا ہے اور حکم اور بشارت دیتا ہے کہ تم اپنے عہد کو پورا کرو میں اپنے عہد کو پورا کروں گا اور اس کے لئے ایک ظاہری علامت اللہ تعالیٰ کی رضا کے اظہار کی رکھی جاتی ہے۔پہلے انبیاء نے بھی اپنی امتوں سے عہد لیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام بنی نوع انسان سے یہ کہا کہ اُمتِ مسلمہ میں شامل ہو جاؤ اور میرے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اپنے رب سے یہ عہد باندھو کہ اسلام کے مطابق تم اپنی زندگیوں کو گزارو گے۔یہ عہد ہے اسلام کا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اُمت مسلمہ سے لیا گیا ہے۔اسلام کے ( اسکیت کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنا سب کچھ اپنے رب کے حضور پیش کر دے اور اس کی راہ میں قربان کر دے پھر جس چیز کی جس وقت ہمارا رب اجازت دے اس چیز سے اس وقت تک ہم فائدہ اٹھا ئیں اور ہر وقت اس بات کے لئے تیار ہوں کہ اپنی ہر چیز خواہ وہ مادی ہو یا جذباتی ہو یا کسی اور طرح ہم سے تعلق رکھنے والی ہوا سے اپنے رب کی رضا کیلئے ہم ہر وقت قربان کرنے کیلئے تیار رہیں گے۔یہ عہد اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اُمتِ مسلمہ سے لیا اور اس کی ظاہری