انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 55 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 55

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث کرے گا۔سورة الاحزاب يرجو اللہ کے تفصیلی معنی ہم یہ بھی کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ایسا نور عطا کیا ہے جو کائنات میں سے کسی اور کو عطا نہیں ہوا اس لحاظ سے انسان تمام مخلوقات میں ممتاز ہے یہ نور دنیا کی کسی اور چیز کو نہیں دیا گیا حتی کہ سورج میں بھی یہ نور نہیں چاند میں بھی نور نہیں ہیروں میں بھی یہ نور نہیں دنیا کی کسی شئی میں بھی وہ نور نہیں جو انسان کو دیا گیا انسانوں میں سے جس نے اس نور کو اتم طور پر اور اکمل طور پر اور ارفع اور اعلیٰ طور پر حاصل کیا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ جو نُورُ السّموت ہے اس کے نور سے حصہ لے اللہ تعالیٰ کے نور کی کرنیں اسے ڈھانک لیں اس نور کی چادر میں شیطانی وسوسہ داخل نہ ہو سکے اور ظلمات میں سے کوئی ظلمت اس کے خانہ دل کا رخ نہ کر سکے اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ جو کامل اور مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کا نور بن کے دنیا میں نور پھیلانے کے لئے مبعوث ہو اصلی اللہ علیہ وسلم۔اس کی وہ اتباع کرے کیونکہ جو شخص اس کی اتباع کرتا ہے وہ اس کی اتباع کے طفیل اللہ کے نور سے اسی طرح اپنی استعداد کے مطابق اور اپنے مجاہدہ کے مطابق نور حاصل کرتا ہے جس طرح کامل مجاہدہ ، کامل محبت ، کامل فدائیت اور کامل ایثار کے نتیجہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے نور کو حاصل کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ہر ایک روشنی ہم نے رسول نبی امی کی پیروی سے پائی ہے اور جو شخص پیروی کرے گا وہ بھی پائے گا اور ایسی قبولیت اس کو ملے گی کہ کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں رہے گی زندہ خدا جولوگوں سے پوشیدہ ہے اس کا خدا ہوگا اور جھوٹے خدا سب اس کے پیروں کے نیچے کچلے اور روندے جائیں گے وہ ہر ایک جگہ مبارک ہوگا اور الہی قوتیں اس کے ساتھ ہوں گی۔“ (سراج منیر، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۸۲ ۸۳) تو اگر کوئی شخص یہ خواہش رکھتا ہو کہ وہ اللہ کے نور سے حصہ لے جونور کہ اس دنیا کی نیک راہوں کی نشاندہی کرتا ہے اور دوسری زندگی میں بھی جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِايْمَانِهِمْ (الحديد: ١٣) یہاں بھی وہ نور قرب کی راہوں کو منور کرتا اور اس کے نتیجہ میں شیطانی راہوں پر اندھیرا چھا جاتا