انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 622
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۶۲۲ سورة البلد ساتھ ہے اور جس کا تعلق انسان کی اپنی نیک نیتی کے ساتھ ہے اور جس کا تعلق خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کی معرفت کے ساتھ ہے اور جس کا تعلق انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ ہے اُس کو وہ بھول جاتے ہیں۔تو بات یہی سچ ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا اعلان بھی ہے۔خدا تعالیٰ کا ئنات کا مالک ہے۔ہم نے اپنی زندگی میں تجربہ بھی یہی کیا ہے۔ہمارا مشاہدہ بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی باتیں ہی سچی ہوتی ہیں۔باقی یہ دنیا تو آدھا سچ بولتی ہے اور آدھا جھوٹ بولتی ہے۔جب تک کوئی شخص نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ انتہائی کوشش نہ کرے خدا تعالیٰ کے راستے میں اور یہ کوشش محض تدبیر سے نہ ہو بلکہ دعا ئیں بھی اسی طرح اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہوں جب تک یہ حالت نہ ہو اس وقت تک اپنی استعداد اور صلاحیت کے مطابق جو بہترین بدلہ کسی کو مل سکتا ہے وہ اسے نہیں مل سکتا۔اگر کہیں یہ خامی ہوگی تو کچھ پل جائے گا۔خدا تعالیٰ بڑا غفار بھی ہے لیکن خدا تعالیٰ کے ہاں چالاکیاں نہیں چلا کرتیں۔( خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۴۰۱ تا ۴۰۴) آیت ۱۲ تا ۱۷ فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ وَ مَا ادريكَ مَا الْعَقَبَةُ فَقُ رَقَبَةٍ اَوْ إِطْعَمُ فِي يَوْمٍ ذِى مَسْغَبَةٍ يَتِيمَا ذَا مَقْرَبَةِ أَوْ مِسْكِينَا ذَا مَتْرَبَةٍ آخری سپارے کی جو آیات میں نے اس وقت پڑھی ہیں ان میں بھی یہی مضمون ہے کہ ہم نے انسان کے لئے ایسے سامان پیدا کئے ہیں کہ اگر وہ ان کو پہچانتا اور ہمارے بتائے ہوئے طریق پر عمل کرتا تو اس کے لئے ممکن تھا کہ وہ روحانی بلندیوں کو حاصل کرتا چلا جاتا لیکن ان تمام سامانوں کے باوجود اور اس ہدایت کے باوجود جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ بنی نوع انسان پر نازل کی۔اس نے اس طرف توجہ نہیں کی۔فَلَا اقتحم العقبة اور ان روحانی بلندیوں تک اس نے پہنچنے کی کوشش نہیں کی جن روحانی بلندیوں تک پہنچنے کے لئے اس کے لئے سامان مہیا کئے گئے تھے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم نے یہ کہا کہ اس نے روحانی بلندیوں تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی تو اس سے ہمارا مطلب یہ ہے کہ نہ اس نے اپنی گردن شیطانی غلامی سے آزاد کی اور نہ اس نے یہ کوشش کی