انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 621 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 621

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۲۱ سورة البلد اصطلاح یہ بتاتی ہے کہ جب قرآن کریم یا جو اسلامی لٹریچر قرآن کریم کی تفسیر میں ہے وہ محنت کا ذکر کرے تو اس کے معنے دونوں کے ہیں یعنی مادی تدبیر بھی اور دعا بھی یعنی دونوں چیزیں علیحدہ علیحدہ نمایاں حیثیت رکھنے کے باوجود پھر بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں۔پس جب قرآن کریم نے کہا لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كبد کہ انسان کو اس کی محنت کے مطابق پھل ملے گا تو اس میں یہ بھی بتایا کہ اس کی محنت میں محض پچھلی رات دو دو گھنٹے عبادت کرنا نہیں بلکہ نیک نیتی سے عبادت کرنا۔دوسروں پر رعب ڈالنے کے لئے یا دکھاوے کی عبادت نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ خدا کا ایک بندہ خدا تعالیٰ سے اس قسم کے تعلقات کو اس طرح چھپاتا ہے جس طرح میاں بیوی اپنے تعلقات کو چھپاتے ہیں اور اُن کو پر دے میں رکھتے ہیں اور کسی نے شاید لطیفہ ہی بنایا ہوگا کہ ایک شخص تھا وہ رات کے وقت بڑی آہ وزاری کیا کرتا تھا۔اس کا ایک مرید تھا اس نے ایک دن خیال کیا کہ میں بھی ان نوافل کی عبادت میں تضرع اور ابتہال میں شامل ہوں اور اپنے پیر کے ساتھ میں بھی نفل پڑھوں تو وہ مہمان ٹھہرا ہوا تھا۔اس نے سوچا کہ اگر کمرہ کا دروازہ بند ہوا تو مشکل ہے اگر کھلا ہوا تو کوشش کروں گا وہ تو نماز میں اتنے مشغول ہوں گے کہ ان کو پتا بھی نہیں لگنا کہ اُن کے ساتھ جا کر کوئی کھڑا ہو گیا ہے۔وہ دبے پاؤں چپ کر کے آیا۔دروازہ کھلا تھا۔کھول کر اندردیکھا تو پیر صاحب تو خراٹے لے رہے تھے اور ٹیپ ریکارڈر گریہ وزاری کر رہا تھا۔پس یہ چالاکیاں دنیا میں چل سکتی ہیں مگر اس سورۃ البلد میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ نہ سمجھنا کہ تمہیں دیکھنے والا کوئی نہیں۔تمہارے ساتھ جس کا تعلق ہے اس کو تو اونگھ بھی نہیں آتی۔نیند اور خراٹے لینے کا تو کوئی سوال بھی نہیں۔اس کی نگاہ سے تم کیسے بچ جاؤ گے اور تمہاری چالاکیاں اس کے سامنے کیسے چلیں گی؟ اور جیسا کہ میں اب بتا رہا ہوں، محنت میں مادی تدابیر ساری شامل ہیں اور دعا شامل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے جس کا میں اب حوالہ دے رہا ہوں کہ تدبیر کو اپنی انتہا تک پہنچاؤ وہ اسی في كبد کی تفسیر ہے اور دعا کو اپنی انتہا تک پہنچاؤ تب تمہیں بہترین بدلہ ملے گا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض مختصر اور بعض بہت سی لمبی احادیث ہیں جن میں اس بات کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے۔بعض لوگ آہستہ آہستہ ظاہر کی طرف جھک جاتے ہیں جو بڑا آسان کام ہے اور جو باطن ہے اور جس کا تعلق خدا تعالیٰ کے