انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 620
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۶۲۰ سورة البلد یعنی جو خدا دا د قو تیں اور استعدادیں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو مقصد ہمارے سامنے رکھا ہے اس مقصد کے لئے جب ہم کوشش کریں گے تو حاصل کیا ہوگا ؟ ہمیں کیا ملے گا؟ تو دنیا میں جو مقابلہ ہے اس میں ہر شخص کو انعام نہیں ملتا لیکن یہاں اعلان کرنے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس لئے یہ بھی اشارہ کیا کہ جب تم ہماری قوتوں اور استعدادوں کو ہمارے بتائے ہوئے مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرو گے اور بہت محنت کرو گے تو تمہیں تمہاری قوتوں اور استعدادوں اور تمہاری محنتوں کا نتیجہ اور پھل اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنت کی صورت میں ملے گا۔یہ ایسا مقابلہ ہے جس میں اوّل۔دوم۔سوم کو انعام نہیں ملتا۔ہر شخص اپنی نیت کے مطابق اور اپنی کوشش کے مطابق اور اپنی استعداد کے مطابق ثمرہ حاصل کرتا ہے اور پھل پاتا ہے۔پھر آگے اسی سورۃ میں بتایا ہے کہ ایک بات کا خیال رکھیں! دنیا کے مقابلے میں بددیانتی بھی ہو سکتی ہے مثلاً ابھی یہاں بھی شور مچا ہوا ہے کہ اتھلیٹ ڈرگز (Drugs) استعمال کر رہے ہیں جس کے استعمال کرنے کی اجازت نہیں اور یہ کھیل کے میدان میں بددیانتی کے مترادف ہے۔اوّل اور دوم آنے کا مقابلہ ہے اور بددیانتی سے حصول انعام کی کوشش کی جارہی ہے۔تو اللہ تعالیٰ اسی سورۃ میں فرماتا ہے کہ یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے اندرونے کو جاننے والا کوئی نہیں خدا تعالیٰ کی ذات سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں اس لئے بددیانتی کر کے خوشامدانہ طریقے پر لوگوں کو خوش کرنے کے لئے جو نیک اعمال بجالاؤ گے اس کا پھل تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ملے گا۔خدا کہے گا کہ جن کی خاطر تم نے یہ کوششیں کی ہیں اُن سے جا کر یہ انعام لینے کی کوشش کرو میرے گھر میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے۔پس في كبد میں ان ساری باتوں کی طرف اشارہ ہوتا ہے یہاں کہا گیا ہے کہ رہین محنت ، اسلام کی اصطلاح میں جو آخری چیز اس سلسلہ میں میں بتانا چاہتا ہوں ابتدائی تمہید میں وہ یہ ہے کہ مادی ذرائع سے جو تد بیر کی جاتی ہے صرف اسی کا نام محنت نہیں ہے یعنی اسلامی اصطلاح میں صرف اسی کو محنت نہیں کہتے۔دنیا میں تو اسی کو محنت کہتے ہیں مثلاً کھلاڑی ہیں وہ دوڑوں میں آگے نکلنا چاہتے ہیں۔وہ ورزشیں کرتے ہیں۔ضرورت کے مطابق ان کو غذا دی جاتی ہے۔ان کے کوچ (Coach) خیال رکھتے ہیں کہ وہ وقت ضائع نہ کریں اور وقت کو ایسا خرچ کریں کہ جو دوڑ کی قابلیت ہے اس پر اثر انداز ہو وغیرہ وغیرہ۔یہ ساری امدادی تدبیریں ہیں جو وہ کر رہے ہوتے ہیں لیکن ہمیں اسلامی