انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 53
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۳ سورة الاحزاب کوتاہیوں اور گناہوں کے نتیجہ میں ایک عذاب کا اور اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا۔بہر حال یوسف بن تاشفین سمجھتے تھے کہ عمر میں پہلی شکست ہو رہی ہے اور ادھر عیسائی بادشاہ یہ سمجھتا تھا کہ آج ( بزعم خویش ) عیسائیت اور اسلام کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ہم نے مسلمانوں کو مٹادیا ہے۔یہ باہر سے مدد دینے آئے تھے اپنے مسلمان بھائیوں کو۔ہم نے ان کو بھی شکست دے دی ہے۔چنانچہ عصر تک یہی حال رہا پھر اللہ تعالیٰ کے فرشتے ایک نئی شان میں آئے کیونکہ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شأن (الرحمن: ٣٠) اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ہر جلوہ نئی شان رکھتا ہے چنانچہ عصر کے وقت عیسائی فوج بھاگ نکلی حالانکہ اس سے پہلے وہ سارا دن مسلمانوں کو مارتے اور دباتے رہے تھے لیکن مسلمانوں کی تکلیف جب اپنی انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ جو سچے وعدوں والا اور کامل قدرتوں والا ہے وہ مسلمانوں کی مدد کو آیا۔اُس نے ان کا امتحان لے لیا تھا اس لئے فرما یا تم کامیاب ہو گئے۔اب لو میرا انعام چنانچہ رومی بھاگے اور یوسف بن تاشفین اور اس کے آدمی ( با وجود اس کے کہ کچھ تو شہید ہو گئے تھے اور کچھ ویسے بھی تعداد میں کم تھے مگر چونکہ وہ ایمان پر قائم تھے اس لئے ) ساری رات دشمن کو مارتے مارتے ان کا پیچھا کیا اور قریباً پچاس میل کے فاصلہ پر ایک دریا تھا اُن کا خیال تھا کہ ہم وہاں تک اُن کا پیچھا کریں گے چنانچہ دشمن کا ساٹھ ستر ہزار فوج میں سے کل پانچ سو عیسائی دریا پار کر سکے۔شاید کچھ دائیں بائیں سے بھی نکلے ہوں گے لیکن ان کی اکثریت ماری گئی۔(خطبات ناصر جلد چہارم صفحه ۴۵ تا ۵۰) آیت ۲۲ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرا حصول رحمت کی ایک اور راہ خدا تعالیٰ نے (جسے شاہراہ کہنا چاہئے جو بڑی وسیع ہے اور برکتوں والی ہے) ہمیں یہ بتائی ہے کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں تو ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی چاہئے۔رجا کے معنی ہیں یہ امید اور یقین رکھنا کہ مسرت کے سامان پیدا ہوں گے ان معنی کی رو سے پر جوا اللہ کے معنی یہ ہوں گے کہ ہر وہ شخص جو امید اور یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے مسرت کے سامان اپنے فضل اور رحمت سے پیدا کرے گا تو اسے یہ یادرکھنا چاہئے کہ رحمت کے یہ