انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 52 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 52

۵۲ سورة الاحزاب تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث جس کا خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر کامل بھروسہ ہوتا ہے۔تبھی وہ کہتا ہے کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے میں دشمن کو پیٹھ نہیں دکھاؤں گا۔وہ سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدے ضرور پورے ہوں گے کیونکہ وہ سچے وعدوں والا اور کامل قدرتوں والا ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ کسی وقت یہ فیصلہ کرے کہ میں اپنے وعدوں کو پورا نہیں کروں گا۔یہ تو ایک عیب ہے اور خدا تعالیٰ ہر قسم کے عیوب سے پاک ہے۔اسی طرح یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ کہے کہ میں اپنا وعدہ پورا کرنا چاہتا ہوں لیکن یہ میری قدرت سے باہر ہے کیونکہ وہ تو ساری قدرتوں کا مالک ہے۔پس وہ سچے وعدوں والا بھی ہے اور کامل قدرتوں والا بھی ہے، اس لئے اس کی صفات کی اسی معرفت کے بعد یہ عہد کیا جاتارہا ہے کہ مسلمان اپنے دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تو ٹھیک ہے کہ میں تمہیں آزماؤں گا چنانچہ قرونِ اولیٰ کے بعد کی تاریخ میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہر آزمائش کے وقت سچے مسلمان نے بیٹھ نہیں دکھائی۔یوسف بن تاشفین کا واقعہ ہے جو سپین میں رونما ہوا۔وہ افریقہ کے رہنے والے تھے۔میں نے تمثیلی رنگ میں عصر کے وقت کا ذکر کیا ہے مگر ان کے اس واقعہ میں عملاً عصر کا وقت ہی تھا جب انہیں اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوئی۔یہ واقعہ اس طرح ہوا کہ جب پین کے حالات خراب ہو گئے تو مسلمانوں نے یوسف بن تاشفین سے درخواست کی کہ ہماری مدد کریں چنانچہ وہ قریباً بارہ ہزار گھوڑ سوار فوج لے کر وہاں پہنچ گئے ، عیسائی بادشاہ ساٹھ ستر ہزار کی فوج لے کر حملہ آور ہوا۔بڑی زبر دست جنگ ہوئی جس میں بظاہر دشمن کا پتہ بھاری تھا۔تاریخ بتاتی ہے کہ اس موقع پر یوسف بن تاشفین نے یہ سمجھا کہ آج مجھے اپنی عمر میں شاید پہلی شکست نہ ہو جائے کیونکہ دشمن کا دباؤ بڑا شدید تھا۔عیسائی مسلمانوں کو مار رہے تھے۔انہیں قتل کر رہے تھے اور پیچھے ہٹا رہے تھے مگر اس سارے دباؤ اور ان تیزیوں کے باوجود جود شمن مسلمانوں کے خلاف دکھا رہا تھا اس پر انہوں نے پیٹھ نہیں دکھائی عیسائی سمجھتے تھے کہ آج وہ غالب آگئے اور سپین سے مسلمان کو گو یا مٹا دیا۔یوسف بن تاشفین کا یہ واقعہ مسلمان کی سپین میں ہلاکت سے کئی صدی پہلے کا ہے گو اس وقت بھی یہی حالات پیدا ہو گئے تھے۔جو بعد کی صدی میں زیادہ بگڑ گئے اور مسلمانوں کو ان کی غفلتوں اور