انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 619 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 619

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۶۱۹ سورة البلد بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة البلد آیت لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ ۵ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ۔کہ ہم نے انسان کو رہین محنت بنایا ہے۔في كبد کے معنے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تفسیر صغیر میں رہینِ محنت کے کئے ہیں وہی معنے میں اس وقت لے رہا ہوں یعنی انسان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنی محنت کا رہین ہے۔اس سے بہت سی باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔محنت اس وقت ہی ہو سکتی ہے جب محنت کرنے کی قوتیں اور استعداد میں بھی ہوں۔بعض بچے لاتوں کی کمزوری لے کر پیدا ہوتے ہیں۔کئی ایسے بچے ہیں میرے پاس بھی خطوط آتے رہتے ہیں کہ تین، چار سال کا بچہ ہے وہ ٹھیک طرح کھڑا ہی نہیں ہو سکتا۔اب ایسا بچہ دوڑنے کی استعداد نہیں رکھتا تو دوڑ کے میدان میں محنت کر کے انعام حاصل نہیں کر سکتا اس لئے کہ دوڑنے کی طاقت ہی اس کے اندر موجود نہیں تو رہین محنت انسان کو بنایا ہے۔یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بھی فرمایا کہ انسان کو بہت سی قوتیں اور طاقتیں عطا کی گئی ہیں جن کو وہ استعمال کر سکتا ہے۔پھر جب خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ اعلان ہوا کہ انسان کو رہینِ محنت بنایا ہے تو اس میں اس طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ کس غرض کے لئے محنت کی جاتی ہے۔آخر انسان کوئی کام کرتا ہے تو کوئی مقصد بھی سامنے ہونا چاہیے۔تو خدا تعالیٰ نے اس میں یہ بھی بتایا ہے کہ اُس نے انسان کے سامنے زندگی گزارنے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے کہ وہ کن اغراض کے لئے اپنی قوتوں اور استعدادوں کو استعمال کریں۔ان مقاصد کے لئے تیسرا اشارہ اس طرف ہے کہ محنت کرنے کی طاقتیں بھی ہیں اور مقاصد بھی ہمارے سامنے رکھے گئے ہیں