انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 616 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 616

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۶۱۶ سورة الفجر جرات مل گئی لیکن ان کو اطمینان قلب نصیب نہیں ہوا۔کیسے نصیب ہوتا جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس آواز کو نہیں سنتے جو قرآن کریم کے ذریعہ بلند کی جاتی ہے۔پس یا درکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے وصل کے بغیر انسان کو کامل اطمینان نہیں مل سکتا اور یہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے لیکن فطرت کی تمام صلاحیتوں کی کامل نشود نما اور پھر صحیح استعمال ہی کے نتیجہ میں انسان اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کیا کرتا ہے۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۲۲۱ تا۲۲۲) انسان جس طرح جسمانی لحاظ سے نشو و نما حاصل کرتا ہے پہلے ارتقا کے کئی دوروں میں سے وہ رحم مادر میں گزرتا ہے اور پھر بہت سے ارتقائی دوروں میں سے وہ پیدائش کے بعد وہ اس دنیا میں گزرتا ہے پھر وہ اپنی بلوغت کو پہنچتا ہے جسمانی طور پر اگر وہ لمبی عمر پائے تو وہ انحطاط کے زمانہ کو پاتا ہے۔اس کے مشابہ مگر (ایک فرق کے ساتھ ) روحانی ارتقا اور روحانی نشو ونما بھی وہ حاصل کرتا ہے پہلے وہ تقویٰ کی موٹی موٹی راہوں پر چلتا ہے پھر وہ اس کتاب عظیم سے جو ھدی لِلْمُتَّقِينَ ہے تقویٰ کی مزید باریک راہوں کا علم حاصل کرتا اور اس کے مطابق اپنی زندگی کے دن گزارتا ہے اسی طرح وہ روحانی ترقی کرتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اپنی روحانی بلوغت کو پہنچتا ہے جس کے بعد کوئی انحطاط نہیں اور یہ فرق ہے روحانی اور جسمانی بلوغتوں میں کہ جسمانی بلوغت کے بعد اس دنیا میں ایک انحطاط کا زمانہ بھی بہت سے لوگوں پر آتا ہے لیکن روحانی بلوغت کے بعد پھر انحطاط کا کوئی زمانہ روحانی بالغ پر نہیں آتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے لطیف رنگ میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔فرمایا جسے بشاشت ایمانی حاصل ہو جائے اس کو پھر شیطان کے حملوں کا کوئی خوف باقی نہیں رہتا الفاظ مجھے یاد نہیں اسی قسم کا مفہوم ہے یعنی جس کے اعمال صالحہ فطرت کا ایک حصہ بن جائیں اور ان کی بجا آوری میں وہ کوئی تکلیف یا کوفت محسوس نہ کرے اسے کسی قسم کی کوشش اور جدو جہد نہ کرنی پڑے بلکہ جس طرح وہ سانس لیتا ہے اور زندگی کو قائم رکھتا ہے اسی طرح ایسا شخص بشاشت کے ساتھ خدا تعالیٰ کے احکام کو بجالاتا ہے اور جس شخص کے دل میں اس قدر بشاشت اعمال صالحہ کے بجالانے میں پیدا ہواور خدا تعالیٰ کے لئے ہر دکھ جو وہ سہے دنیا اسے دکھ سمجھے تو سمجھے وہ اس میں لذت محسوس کرے اس بلوغت کے بعد کسی قسم کے روحانی انحطاط کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہی وہ کیفیت ہے بلوغت کی جس کی طرف قرآن کریم نے اس آیت میں اشارہ کیا ہے: يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَينَةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ