انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 615
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۶۱۵ سورة الفجر بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الفجر آیت ۲۸ تا ۳۱ يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي۔انسان کی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ وہ قرب الہی کو حاصل کرے تا کہ اسے کامل اطمینان نصیب ہو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً - اس میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی تعلیم کی رو سے انسان کو احسن تقویم کی صورت میں پیدا کیا گیا ہے اس لئے انسان کے لئے یہ ضروری ہے کہ اسے جو قو تیں اور استعدادیں دی گئی ہیں وہ ان کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے میں کامیاب ہو۔خدا تعالیٰ کا وصل اسے نصیب ہو۔چنانچہ سورۃ فجر کی ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب تک انسان کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہ ہو اور خدا تعالیٰ کا پیار نہ ملے اس وقت تک اسے اطمینان کامل بھی نصیب نہیں ہوتا چنانچہ تم دیکھ لو آج دنیا میں جس طرف بھی نظر دوڑاؤ تمہیں کامل اطمینان کا فقدان نظر آئے گا۔امریکہ میں بھی اور روس میں بھی۔لوگوں نے دنیا تو بہت اکٹھی کر لی لیکن دل کا اطمینان ان کو حاصل نہیں۔میں انگلستان میں پڑھتارہاہوں۔میں وہاں کھل کر کہتا تھا کہ اطمینان قلب تمہیں اسلام کے سوا کہیں نہیں مل سکتا۔جو طالب علم میرے ساتھ بے تکلف تھے وہ کہا کرتے تھے کہ انہیں سب کچھ پل گیا لیکن اطمینان قلب نہیں ملا۔اب بھی میں جب کبھی باہر کے ملکوں کے دورے پر جاتا ہوں سب لوگ یہی کہتے ہیں کہ دنیا مل گئی ، دولت مل گئی، سائنسی تحقیقات کے میدان میں ترقی کرلی اور نالائقیوں کی وجہ سے ان کے غلط استعمال پر بھی