انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 613 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 613

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۶۱۳ سورة الغاشية بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الغاشية آیت ۲۲، ۲۳ فَذَكَّرُ إِنَّمَا انْتَ مُذَكِرَة لَسْتَ عَلَيْهِم وس لا إكراه في الدِّينِ۔۔۔مفسرین نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ (۱) اس میں ایک اصول بیان ہوا ہے اور (۲) حکم ہے۔لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة: ۲۵۷) میں ایک اصول بھی بیان ہوا ہے کہ دین کے معاملہ میں جبر نہیں ہوگا اور ایک حکم بھی ہے یہ۔اور اس کے پہلے مخاطب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اور یہاں یہی معنے انہوں نے لئے ہیں کہ دیکھو خدا تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ دین کے معاملہ میں اکراہ نہیں کرنا جبر نہیں کرنا تم نے۔فذكر إِنَّمَا انْتَ مُذکر ہاں وعظ ونصیحت کرو کیونکہ تم مذکر ہو، جبر کرنے والے نہیں ہو، وکیل نہیں ہو، محافظ نہیں ہو ، حافظ نہیں ہو۔لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُضَيْطِرٍ اس کے معنے لغت والے نے یہ کئے ہیں کہ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ: لَسْتَ عَلَيْهِمْ مُسَلَّطٍ عَلَيْهِمْ تَجْبُرُهُمْ عَلَى مَا تُرِيدُ تجھے مسلط نہیں کیا گیا لوگوں پر کہ تو اپنی مرضی لوگوں پر مسلط کرے اور یہ کہ جسے تو صداقت سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ لوگ قبول کریں اس کو قبول کرنے پر لوگوں کو مجبور کرے۔۔۔۔تفسیر ( کبیر ) رازی میں ہے کہ آفَانتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكَيْلاً أَي حَافِظًا تَحْفَظُهُ مِنَ اتَّبَاعِ هَوَاهُ تجھے ہم نے یہ حکم نہیں دیا اور نہ یہ قدرت اور طاقت دی ہے اور نہ تجھے حافظ بنایا ہے کہ تو انہیں محفوظ رکھے نفسانی خواہشات کی اتباع کرنے سے۔آئی لَسْتُ كذلك کہتے ہیں اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسا دوسری جگہ فرما یا لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرِ اور جیسا کہ میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا کہ کست