انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 612
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۶۱۲ سورة الاعلى شخص روحانی زندگی حاصل کرنا چاہے اور اس روحانی زندگی کے حصول کے بعد اللہ تعالیٰ جو حیات محض ہے اور جس کی قدرتوں پر دنیا کی ہرشی کی حیات منحصر ہے اس کے بغیر وہ زندگی قائم ہی نہیں رہ سکتی تو اس قسم کی روحانی زندگی جو حاصل کرنا چاہے اس کیلئے ضروری ہے کہ روح القدس اس کی مدد کو آئے اور روح القدس سے وہ ان چیزوں کو ان ذرائع کو حاصل کرے جن کے حصول کے بعد روحانی زندگی ملا کرتی ہے اور روح القدس کی مدد سے یہ اس کو ملتی ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والا اور آپ کی سنت پر چلنے والا ہو اور جو شخص ابدی روحانی زندگی چاہتا ہے اور جسے یہ پسند نہیں جس کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْتی کہ نہ وہ زندگی ہوگی نہ موت ہوگی پریشانی کا ایک عالم ہو گا بے اطمینان کی ایک دنیا ہوگی تکلیف اور دکھ ہو گا جس سے نجات کا کوئی راستہ نظر نہیں آئے گا برداشت کی طاقت نہیں ہوگی اگر ایسی زندگی نہیں بلکہ وہ زندگی جو پاک زندگی ہے وہ زندگی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل روح القدس کی شاگردی حاصل کرنے کے بعد زندہ خدا سے تعلق قائم کرنے کے بعد انسان کو ملتی ہے وہ زندگی اگر حاصل کرنی ہو تو ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ (الاحزاب: ۲۲) خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۲۷۰،۲۶۹)