انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 611
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ آیت ا تا ۴ ۶۱۱ سورة الاعلى بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الاعلى بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ D سَبْحِ اسْمَ رَبَّكَ الْأَعْلَى الَّذِي خَلَقَ فَسَوَى وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى اس میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت جو ہے وہ کسی شعبہ میں بھی کسی قسم کا نقص اور کمی اپنے اندر نہیں رکھتی۔دوسرے یہ بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت ضرورت اور تدریج کے اصول کو سامنے رکھ کے جو اس نے بنائے ہیں خود ہی تدریجی طور پر ترقی دیتے ہوئے کمال تک پہنچاتی ہے۔اور چونکہ انسان نے بھی خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنے اوپر چڑھانا تھا یہاں اس واسطے کہا گیا کہ اعلیٰ جو ہے ربوبیت وہ اللہ تعالیٰ کی ہے بعض دوسروں کو تو اپنے محدود قومی اور صلاحیتوں کے اندر ایک عکس ایک ظل رکھا ہوا ہے۔الَّذِی خَلَقَ فَسَوی ، سوی کے دو معنی لغت عربی نے کئے ہیں۔ایک یہ کہ درست اور اعتدال پر یعنی نہ دائیں جھکا ہوا نہ بائیں جھکا ہوا، بلکہ صراط مستقیم پر چلتے رہنے کی طاقت رکھنے والا اور ترقی کا مادہ اپنے اندر رکھنے والا، بے عیب بنایا ہے الَّذِي خَلَقَ فَسَوی یہاں انسان کا ویسے ذکر ہے کیونکہ سبح اسم ربك الأعلیٰ میں انسان کو مخاطب کیا گیا ہے نا۔تو انسان کو یعنی ویسے دوسروں کو بھی بنایا ہے لیکن یہاں انسان ہے کیونکہ یہ مضمون انسان کے ساتھ نہی تعلق رکھتا ہے۔آیت ۱۴ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيى خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۲۸۸،۲۸۷) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں اپنی زبان میں اگر اس کا خلاصہ کرنا ہو تو وہ یہ ہوگا کہ جو