انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 606
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث سورة الطارق اس لئے کئے جائیں گے کہ وہ خدا کے بندوں کو توحید خالص کی طرف بلا رہے ہوں گے اور انہیں ان کے انسانی حقوق دلوار ہے ہوں گے اور اِنَّما أنا بشر مثلکم کا عظیم نعرہ بلند کر کے وہ یہ کہہ رہے ہوں گے کہ انسان، انسان میں کوئی فرق نہیں ہے۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا کہ یہ جو اسلام نے مساواتِ انسانی اور شرف انسانی کے عظیم اعلان کئے ہیں جن لوگوں نے ان کو پسند نہیں کیا اور اس تعلیم کو ماننے سے انکار کر دیا ہے انہوں نے اس کے خلاف جو مختلف منصوبے کئے ان میں سے ایک منصوبہ اغوا کا تھا۔اغوا کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں لیکن اغوا کے اصل معنے یہ ہیں کہ کسی انسان کو اس ماحول میں جو اس کا اپنا ماحول ہے پرورش پانے اور تربیت حاصل کرنے سے محروم کر دیا جائے۔یہ اغوا کا اصل نتیجہ ہے اور اصولی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ اغوا کے معنے ہی یہ ہیں کہ بعض لوگ بچے کو اٹھا کر لے جاتے ہیں اور دوسری جگہ لے جا کر بیچ دیتے ہیں۔اب مثلاً ایک نہایت شریف خاندان کا دینی ماحول میں پرورش پانے والا بچہ ہے ظالم انسان اسے اٹھاتا ہے اور کسی دوسری جگہ جا کر غلام بنا کر بیچ دیتا ہے یا مثلاً لڑکی ہے تو اسے نہایت گندی جگہوں پہنچادیا جاتا ہے حالانکہ اس بچے یا بچی کے ماحول میں جس میں اسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا تھا اس ماحول میں تو یہ فضا نہیں تھی۔اس ماحول میں تو نیکی تھی اس ماحول میں تو قرآن کریم کی تعلیم تھی اس ماحول میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کو پیدا کرنے کا چرچا تھا اس ماحول میں تو اللہ تعالیٰ سے ذاتی محبت پیدا کرنے کے سبق دئے جاتے تھے۔غرض اغوا کرنے والے اس دینی ماحول سے نکال کر بچوں کو ایک اور گندے ماحول میں لے جاتے اس لئے میرے نزدیک اغوا کے اصل معنے یہ ہیں کہ انسان کو ایسے ماحول سے محروم کر دیا جائے جس ماحول میں وہ اور اس سے تعلق رکھنے والے تربیت حاصل کرنا یا تربیت دینا چاہتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ماننے والوں کے خلاف بھی اسی قسم کا منصو بہ بنایا گیا چنانچہ صلح حدیبیہ میں یہ شرط رکھدی گئی کہ مکہ میں جو آدمی مسلمان ہوگا وہ مدینے میں نہیں جا سکے گا یعنی ایسے مسلمان کو اس تربیت سے محروم کر دیا گیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر وہ حاصل کر سکتا تھا اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اِنَّهُم يَكِيدُونَ كَيْدًا۔یہ واقعی ایسا عجیب فریب تھا کہ حضرت عمر جیسے صاحب فراست بھی ڈگمگا گئے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتا دیا تھا کہ مخالفین مختلف قسم کی ”کید کرتے ہیں انہیں ایسا کرنے دو تم اس کی فکر نہ کرو اس سے