انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 51
تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۵۱ سورة الاحزاب نے اپنی جان دے کر مَنْ قَضَى نَحْبَه خدا تعالیٰ سے اپنا عہد پورا کر دیا اور اس طرح اُنہوں نے اپنے لئے جنتوں کے سامان پیدا کئے اور پیچھے رہنے والوں کے لئے فتح کے سامان پیدا کر دیئے۔غرض اس جنگ میں جب مسلمانوں کا کرب اپنی انتہا کو پہنچ گیا اور تمثیلی زبان میں وہ آخری وقت یعنی عصر کا وقت آ گیا تو کہنے والے کہتے ہیں کہ اس وقت یرموک کے میدان میں رومی اپنے پیچھے شاید ڈیڑھ لاکھ لاشیں چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے حالانکہ پہلے چار دنوں میں رومی یہ سمجھتے تھے کہ مسلمان تو مٹھی بھر ہیں یہ بچ کر کیسے جائیں گے وہ سمجھتے تھے کہ ہم اڑھائی لاکھ ہیں اور مسلمان صرف چالیس ہزار اس لئے وہ مسلمانوں کو مٹادیں گے غرض اس نیت کے ساتھ رومی آئے تھے کہ اس میدان میں سارے مسلمانوں کو قتل کر دیں اور اس فتنے کو (جو اُن کے نزدیک فتنہ تھا) ہمیشہ کے لئے مٹادیں گے مگر جسے وہ فتنہ سمجھتے تھے اور جس کے مثانے کے درپے تھے، اس نے اُن کے خون کو کھاد بنا کر انہی کے علاقوں میں اسلام کے درختوں کو بویا۔جنہوں نے بڑے اچھے پھل دیئے (کھا دہی پڑی نا! کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ بکرے کا خون اگر DECOMPOSED (ڈی کمپوزڈ) ہو کر درختوں کی جڑوں میں ڈالا جائے تو بڑی اچھی کھاد ثابت ہوتا ہے۔چنانچہ اسلام کا یہ دشمن انسانیت کے لئے اور تو کسی کام نہیں آیا مگر جب اسلام کا باغ ان علاقوں میں لگا تو اس وقت اس نے کھاد کا کام دیا۔ان کی نسل سوچتی ہو گی کہ یہ لوگ کن بلند نعروں کے ساتھ اور بظاہر کس ہمت کے ساتھ اور کس ولولے اور عزم کے ساتھ اور پادریوں کے ہر قسم کے جوش دلانے کے بعد اسلام کو مٹانے کے لئے وہاں گئے تھے مگر نا کام ہوئے اور خدا تعالیٰ کی قدرت کا ہاتھ اور اس کے پیار کے جلوے جنگ کے میدانوں میں بھی ہمیں نظر آتے ہیں۔دشمنان اسلام تو بد بخت تھے لیکن ہمارے لئے خوش بختی کے سامان پیدا کر گئے اور ہمارے لئے خوش قسمتی کے محلوں کے دروازے کھول گئے۔تاہم یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب مسلمانوں کا کرب، کرب عظیم بن گیا تھا۔دُکھ اور تکلیف اپنی انتہا کو پہنچ گئی تھی۔اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کا انعام نازل نہیں ہوتا ورنہ ایک کمزور ایمان والے اور ایک پختہ اور سچے ایمان والے آدمی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوسکتا۔بہر حال ایک مسلمان نے خدا تعالیٰ سے یہ عہد کیا ہے کہ وہ دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائے گا چنانچہ جب تک اللہ تعالیٰ اس دعوی کی پوری طرح آزمائش نہ کرے، اس کی نصرت نازل نہیں ہوتی۔پیٹھ نہیں دکھائے گا“ کا عہد وہی آدمی کرتا ہے