انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 582 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 582

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۸۲ سورة الانفطار اور اسباب بھی عطا کئے جائیں ورنہ وہ صفت انسان کے کسی کام کی نہیں رہتی تو فرما یا فسوكَ فَعَد لَكَ ہم نے تجھے تیری صفات کے مطابق ایسی قوتیں دی ہیں اور ایسے اسباب پیدا کر دئے ہیں کہ یہ صفات ناکارہ نہ بن جائیں بلکہ تو ان کے مطابق اپنی عملی زندگی گزار سکے ہم نے تجھے اپنی صفات کا مظہر بنایا ہے اور ان کے مطابق عمل بجالانے یا نہ بجالانے میں آزاد رکھا ہے پھر في اي صُورَةٍ مَا شَاءَ رَكَبَكَ اس کے بعد خدا تعالیٰ نے جو صورت پسند کی اس میں تجھے ڈھالا اس آیت میں اس طرف بھی لطیف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے مجبور پیدا نہیں کیا بلکہ تجھے تیری فطرت صحیحہ کے ساتھ ساتھ طبیعت ثانیہ بھی عطا کی ہے اور تجھے اجازت دی ہے کہ اگر تو چاہے تو خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کی صفات حسنہ کا حقیقی مظہر بنے۔اور اگر تو چاہے تو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں اباء اور استکبار کا رویہ اختیار کرتے ہوئے بغاوت اختیار کرلے اور شیطان کے گروہ میں شامل ہو جائے اور خدا تعالیٰ کا انسان کو یہ آزادی دینا بھی دراصل اسے مظہر صفات باری بنانے کے لئے ضروری تھا۔ورنہ اگر جبر کا طریق اختیار کیا جاتا تو اس میں اور خدا تعالیٰ کی دوسری مخلوقات میں کوئی فرق نہ رہتا اور انسان کو دوسری مخلوقات پر کوئی فضلیت حاصل نہ ہوتی کیونکہ خدا تعالیٰ کی ساری مخلوقات ہی اس کی اطاعت میں لگی ہوئی ہے اور وہ اس کے احکام کے بجالانے سے انکار نہیں کر سکتی۔دیکھو خدا تعالیٰ بھی محنت کا پھل دیتا ہے اور آم کا درخت بھی خدا تعالیٰ کے اذن کے ساتھ محنت کا پھل دیتا ہے یعنی انسان آم کے درخت پر محنت کرے تو خدا تعالیٰ کے اذن کے ساتھ اسے محنت کا پھل مل جاتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ وہ محنت تو کرے اس لئے کہ اسے اس درخت سے آم ملیں لیکن اسے اس درخت سے کھٹی گلگل حاصل ہو کیونکہ اس درخت نے خدا تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرنی ہے، خدا تعالیٰ کا اسے حکم ہے کہ اگر کوئی انسان اس کی پرورش کرے تو وہ بڑا ہو کر اسے آم ایسا میٹھا پھل دے لیکن اس آم میں خدا تعالیٰ کے صفات کا مظہر بننے کی اہلیت نہیں کیونکہ جہاں جبری اطاعت ہو وہاں کامل مظہر یت پیدا نہیں ہوتی جیسے اللہ تعالیٰ پر کسی اور ہستی کا زور نہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو بھی اس کے ایک محدود دائرہ کے اندر آزادی دے دی ( بڑے دائرہ کے اندر تو وہ بھی بہت سی پابندیوں میں جکڑا ہوا ہوتا ہے ) یعنی