انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 581
تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۵۸۱ سورة الانفطار بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الانفطار آیت ۷ تا ۹ يَاأَيُّهَا الْإِنْسَانُ مَا غَرَكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فسونك تعدلك في في أي صُورَةٍ مَا شَاءَ رَكَبَكَ۔اے انسان تجھے کس نے تیرے ربّ کے بارے میں مغرور بنایا ہے۔مَا غَزَكَ بِفُلانٍ کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ تجھے اس کے مقابلہ میں دلیری اور جرات کے ساتھ کھڑے ہو جانے پر کس نے آمادہ کیا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے انسان ہم نے تجھے پیدا کیا پھر تیری فطرت صحیحہ میں اپنی بعض صفات رکھیں اور پھر تجھے اپنی صفات کا مظہر بنایا۔فسونك پھر تیری ان صفات کو تیرے مناسب حال درست کیا اور پھر تجھے خالی صفات ہی نہیں دیں بلکہ تجھے ان صفات کے مطابق اعمال بجالانے کی قوت بھی عطا کی خدا تعالیٰ تو خیر قادر مطلق ذات ہے۔اس کی صفات اور اس کی قدرتیں پہلو بہ پہلو چل رہی ہوتی ہیں اس کے لئے نہ اس دنیا میں کوئی روک ہے اور نہ اگلی دنیا میں کوئی روک ہے۔وہ مُلِكِ كُلِّ شَيْءٍ ہے وہ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ (الرعد: ۱۷) ہے وہ قادِرُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ ہے لیکن انسان ایسا نہیں۔اس کو اگر اللہ تعالیٰ نے محض اپنی بعض صفات دی ہو تیں لیکن ان کے مطابق اعمال بجالانے کی طاقت اسے حاصل نہ ہوتی تو یہ سب صفات اس کے کسی کام کی نہ ہوتیں وہ محض ایک برکا رشئی ہوتیں مثلاً صفت رحم ہے اگر اللہ تعالیٰ انسان کو صفت رحم تو عطا کرتا لیکن رحم کرنے کیلئے جن اسباب اور ذرائع کی ضرورت ہوتی ہے وہ اسے عطا نہ کئے جاتے تو یہ صفت انسان کیلئے بریکا رشئی بن کر رہ جاتی۔پس جہاں تک انسان کا تعلق ہے ضروری ہے کہ ہر صفت کے مطابق اسے اعمال بجالانے کیلئے مناسب ذرائع سامان