انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 49 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 49

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۴۹ سورة الاحزاب پتھر باندھ کر چلتے تھے۔دوسری طرف مسلمان عورتوں کی یہ حالت تھی کہ جس جگہ وہ اکٹھی کی گئیں وہاں ان کی عزت اور عصمت کی حفاظت کے لئے بھی مسلمان سپاہی میسر نہیں تھا کیونکہ دوسری جگہ اس کی زیادہ ضرورت تھی۔مسلمان عورت سے فرمایا کہ اگر آج تیری عزت کی آزمائش ہے اور خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ایک مسلمان عورت میرے راستے میں اپنی عزتوں کو قربان کرنے کے لئے تیار ہے یا نہیں تو وہ اس امتحان میں پورا اُترنے کے لئے تیار ہو جائیں چنانچہ وہ تیار ہوگئیں۔پھر جس وقت یہ سارا جم غفیر اور یہ سارا مجمع جو اسلام کو مٹانے کیلئے جمع ہوا تھا اور اُن کفار کی اُمیدا اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی کہ بس اب وہ غالب آئے اور مسلمان مغلوب ہوئے۔ادھر مسلمانوں کے حالات کرب عظیم کو پہنچ گئے اور وہ سمجھنے لگے کہ اگر اس وقت خدا تعالیٰ کی مدد نہ آئی تو وہ مارے جائیں گے، اس وقت خدا کی مدد آئی اور فرشتے اس مدد کو آسمان سے لے کر آئے تو انہوں نے انہی زمینی عناصر میں تبدیلیاں پیدا کر دیں۔وہ عناصر کہ جن کے ذرے ذرے کو انسان کے لئے پیدا کیا گیا تھا کہ وہ ان کی تسخیر اور ان پر حکمرانی کرے، اُن کو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حاکم اعلیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت اور آپ کی کامیابی کے لئے حکم ملا چنا نچہ مسلمان جن کے جسم کا ذرہ ذرہ اور رواں رؤال مَتى نَصْرُ اللہ پکار رہا تھا وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یہ تمام عناصر، یہ زمین اور اس کے ذرات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تمہیں آزمایا اور تم اس آزمائش میں کامیاب ہوئے کیونکہ تمہارے اس کرب کو میں نے عظیم بنا دیا ہے اور تمہارا امتحان اپنی انتہا کو پہنچ گیا ہے، تمہارے دکھوں کا انسان تصور نہیں کر سکتا۔میں نے تمہاری یہ آزمائش اس لئے نہیں کی کہ تمہیں دُنیا سے مٹا دیا جائے بلکہ یہ میں نے اس لئے کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا ہاتھ ظاہر ہواور دُنیا خدا تعالیٰ کے اس پیار کا جلوہ دیکھے جو اُ سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے متبعین کے ساتھ ہے۔اب دیکھیں سارے عرب قبائل اکٹھے ہو کر کمزوروں کو مٹانے کے لئے آگئے تھے۔ان کمزور مسلمانوں نے پیٹ پر پتھر باندھے مگر دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائی۔وہاں سے بھاگے نہیں۔اُنہوں نے بے عزت صلح کے لئے ہاتھ نہیں بڑھایا۔کمزوری نہیں دکھائی۔شرک کی طرف مائل نہیں ہوئے کہ خدا تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور سہارا ڈھونڈیں۔اُنہوں نے کہا ہمارا ایک ہی سہارا ہے اگر وہ مل گیا تو اس