انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 577
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۵۷۷ سورة عبس بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة عبس آیت ۱۶ پایدِى سَفَرَةِ بِأَيْدِي قرآن کریم کے متعلق آیا ہے پایدنی سفرة کہ دور دور سفر کر نے والوں کے ہاتھ میں بھی یہ کتاب ہے۔یہ بڑی عظیم کتاب ہے۔اس مضمون پر بہت سی آیات ہیں لیکن اس وقت میں ان کے متعلق تفصیلی طور پر کچھ نہیں کہنا چاہتا بلکہ صرف اسی ٹکڑے کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔یہ سفر کرنے والے دو قسم کے ہیں۔ایک وہ لوگ ہیں جو تربیت اور علوم حاصل کرنے کے مراکز سے علم حاصل کرتے اور تربیت حاصل کرتے ہیں اور پھر لمبے سفر کر کے ہر جگہ پہنچتے ہیں تا کہ خدا تعالیٰ کی اس تعلیم کو، اس ہدایت کو جو بنی نوع انسان کے قیامت تک کے فائدے کے لئے آئی ہے ان تک پہنچا ئیں اور ایک وہ لمبے سفر کرنے والے ہیں جو ایسے مراکز میں پہنچتے ہیں جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے ما تحت قرآن کریم کی تعلیم دی جاتی ہے اور امت مسلمہ میں ایسے ہزار ہا ہزار ہا مراکز تھے جو نہ ہم نے گئے اور نہ گنے جاسکتے ہیں، شاید تاریخ بھی بہت ساروں کو بھول چکی ہوگی۔ہمارے جلسہ سالانہ کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ دنیا کے کونے کونے سے لوگ اس میں شمولیت کے لئے آتے ہیں مثلاً یہاں سے دس ہزار میل دور سے امریکن جلسہ پر آئیں گے اور ان کے کانوں میں خدا اور رسول کی باتیں پڑیں گی۔وہ تقریریں سنتے ہیں ان کو سمجھ نہیں آتی لیکن میں حیران ہوں شاید آپ کو پتا نہیں کہ بعض دفعہ ۲۶ تاریخ کی تقاریر کا علم ان لوگوں کو جو ہماری زبان نہیں جانتے عشاء کے وقت ہو چکا ہوتا ہے۔اس قدر وہ کرید کرید کر پوچھتے ہیں کہ اس مقرر نے کیا کہا، اس نے کیا کہا، اس نے کیا کہا اور نوٹ لیتے ہیں اور کچھ یا درکھتے ہیں اور اس طرح وہ لوگ علم حاصل کرتے ہیں لیکن صرف علم حاصل کرنا ان کو اتنا