انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 567
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۵۶۷ سورة الدهر کتنے زور اور تاکید سے ہمیں توجہ دلائی گئی ہے کہ ہم بھوکے کو کھانا کھلائیں اور ضرورت مند کو ضروریات زندگی مہیا کریں۔کافروں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللهُ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْطْعِمُ مَنْ لَّوْ يَشَاءُ اللَّهُ أَطْعَمَةَ إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا فِي ضَللٍ مُّبِينٍ - (يس:۴۸) کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ ضرورت مندوں کو کھانا کھلاؤ اور ان کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرو تو کا فرلوگ کہتے ہیں کہ کیا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں۔اگر خدا چاہتا تو جیسا اس نے ہمیں دیا تھا انہیں بھی وہ کھانے کو دے دیتا تم تو خدائی فعل کے خلاف ہمیں تعلیم دے رہے ہو اور اس وجہ سے ہم تمہیں کھلی گمراہی میں پاتے ہیں۔بجائے اس کے کہ وہ یہ سمجھتے کہ خدا تعالیٰ نے بعض انسانوں کے لئے بعض نیکیوں کے مواقع بہم پہنچانے ہوتے ہیں۔اس لئے اس نے انسانی معاشرہ کو اس طرح بنایا ہے کہ ہر ایک شخص نیکیوں سے حصہ وافر لے سکے۔انہوں نے اس سے الٹا نتیجہ نکالا حالانکہ بعض نیکیاں ایسی ہیں جن کے کرنے کا موقع زیادہ تر غرباء کو ہی ملتا ہے۔مثلاً اپنے حالات پر صبر کرنا، قناعت سے کام لینا وغیرہ وغیرہ۔جن لوگوں کو خدا تعالیٰ نے رزق کثیر دیا ہوتا ہے اور انہیں مالی تنگی کا سامنا نہیں ہوتا وہ اس قسم کے صبر کا ثواب حاصل نہیں کر سکتے جو صبر ایک غریب آدمی تنگی ترشی کے زمانہ میں دکھاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے ہمارے معاشرہ میں اونچے نیچے، امیر غریب، عالم، جاہل وغیرہ وغیرہ ہر قسم کے طبقات بنادئے ہیں تاکہ ہم اپنے اپنے مقام کے لحاظ سے ہر قسم کی نیکیاں کرتے چلے جائیں۔اگر ہر شخص اتنا امیر ہوتا کہ اس کو دنیا کی کوئی ضرورت پیش ہی نہ آتی۔اگر ہر شخص اتنا عالم ہوتا کہ کسی استاد کے پاس جانے کی اسے ضرورت ہی نہ رہتی۔اور اگر ہر شخص ہر فن میں اتنا کمال رکھتا کہ ڈسٹری بیوشن آف لیبر جس پر ہماری انسانی اقتصادیات کی بنیاد ہے کی ضرورت ہی پیدا نہ ہوتی۔وغیرہ۔تو ثواب کا کون سا موقع باقی رہ جاتا؟؟؟ اللہ تعالیٰ بے شک اس بات پر قادر ہے کہ ہر انسان کو ایسا بنا دے لیکن اس نے اسے ایسا نہیں بنایا۔اس لئے کہ اس نے انسان کے لئے صرف اسی دنیا کی زندگی ہی نہیں بلکہ مرنے کے بعد ایک اور زندگی بھی مقدر کی ہوئی ہے اور اُخروی زندگی کے پیش نظر ایسا معاشرہ انسان کے لئے مقرر فرمایا کہ ہر طبقہ کے لوگ اس معاشرہ کے اندر رہ کر زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرتے چلے جائیں اور اس طرح