انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 568 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 568

۵۶۸ سورة الدهر تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اس کی خوشنودی کو پوری طرح پاسکیں لیکن کا فرلوگ ان باتوں کو نہیں سمجھتے اس لئے جب ان کو کہا جاتا ہے کہ ضرورت مندوں کی ضرورتوں کو پورا کرو اور محتاجوں کے لئے روز مرہ زندگی کی ضروریات مہیا کرو تو وہ کہتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ نے انہیں کھانے کو نہیں دیا تو تم ہم سے کیسے توقع رکھتے ہو کہ ہم خدائی فعل کے خلاف ان کو کھانے کے لئے دیں۔ان کا کافرانہ دماغ عجیب بہانہ تراشتا ہے۔۔۔۔۔۔۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے ہی پیار کرنے والے وجود تھے۔بڑی ہی شفقت کی باتیں آپ کے منہ سے نکلی ہیں۔چنانچہ آپ نے ہمیں ایسا گر سکھایا ہے کہ جس کو اگر ہم اپنے سامنے رکھیں اور اس پر عمل کریں۔تو ایک دھیلا زائد خرچ کئے بغیر ہم اپنے ضرورت مند بھائیوں کی غذائی ضرورت کو پورا کر سکتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اور یہ ارشاد بخاری میں موجود ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةً رَضِيَ اللهُ عَنْهُ انَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامُ الإِثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ وَطَعَامُ الثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةِ (بخارى كتابُ الْأَطْعِمَةِ بَابٌ طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الْإِثْنَيْنِ) کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کو پورا ہوجاتا ہے اور تین کا کھانا چار کو پورا ہوجاتا ہے۔ایک اور حدیث جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور ترمذی میں درج ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الْاِثْنَيْنِ وَطَعَامُ الْاِثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ وَ طَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ (ترمذى بَابُ الْأَطْعِمَةِ بَاب مَا جَاءَ طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الْإِثْنَيْنِ ) کہ ایک کا کھانا دو کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔اور دو آدمی کا کھانا چار کے لئے اور چار کا کھانا آٹھ آدمی کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔پس ایک حدیث میں تو یہ ہے کہ ایک کا کھانا دو کے لئے اور دو کا کھانا تین کس کے لئے اور تین کا کھانا چار کے لئے کافی ہو سکتا ہے۔لیکن دوسری حدیث میں دگنا کرتے چلے گئے۔در اصل بات یہ ہے کہ بعض گھرانے ایسے ہوتے ہیں جو اچھے کھاتے پیتے ہیں وہاں اگر ایک کس کا کھانا پکے تو دو کے لئے کافی ہو جاتا ہے اور اگر چھ کس کا پکے تو بارہ کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔لیکن ان کے مقابل بعض ایسے گھرانے ہوتے ہیں جہاں دو کے لئے کھانا پکے تو صرف تین کس کے لئے کافی ہو سکے گا اور بعض گھرانے ان کی نسبت بھی زیادہ غریب ہوتے ہیں۔اگر وہاں تین آدمیوں کا کھانا پکایا