انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 564 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 564

۵۶۴ سورة الدهر تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث کے متعلق قرآن کریم میں بڑی تفصیل سے ہدایت پائی جاتی ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس موضوع پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔قرآن کریم اخلاقیات سے بھرا پڑا ہے۔اخلاق کی حفاظت کیسے کرنی ہے اور ان کو ترقی کیسے دینی ہے، حسن معاملہ کیا ہے۔غرض اخلاقیات کے جملہ پہلوؤں سے متعلق قرآن کریم میں تفصیل سے ہدایت دی گئی ہے۔یہ ایک کامل کتاب ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہمارے ہاتھ میں دی گئی ہے۔اس میں اخلاقیات یعنی حسن معاملہ کے متعلق ایک کامل ہدایت موجود ہے۔اسی طرح روحانی استعدادیں ہیں۔قرآن کریم نے بڑی تفصیل سے انسان کی روحانی حالتوں کو بیان کیا ہے اور روحانی ترقی کے حصول کے طریق بھی بتائے اور ان طریق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہلاکتوں کا بھی ذکر کیا اور ان کی وجوہات کی طرف بھی اشارہ کیا۔ایک جگہ فرمایا کہ بعض لوگوں کو ہم اونچا کرنا چاہتے ہیں لیکن وه أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ (الاعراف: ۱۷۷) زمین کی طرف جھک جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے روحانی رفعتوں کے حصول کے جو سامان پیدا کئے ہیں ان سے وہ خود اپنے آپ کو محروم کر لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ساری ہدایتیں تو دے دیں لیکن یہ ہدایتیں دینے کے بعد اما شَاكِراً وَ إِمَّا كَفُورًا انسان کو یہ اختیار ہے کہ خواہ وہ ہدایت کی راہ پر چل کر شکر گزار بندہ بنے یا گمراہی کی راہوں پر چلتے ہوئے ناشکری کرے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا پھر اس کو مختلف قو تیں اور طاقتیں ،صلاحیتیں اور استعدادیں عطا کیں اور ان قوتوں اور صلاحیتوں کو نشو و نمادینے اور ان کو ہلاکت سے بچانے کی ہدایت دی۔گو یا ہدایت اور گمراہی کے دونوں راستوں کی نشاندہی کرنے کے بعد فرمایا : - إِمَّا شَاكِرًا وَ إِمَّا كَفُورًا اے انسان! ہم تجھے صاحب اختیار بناتے ہیں اگر تو چاہے تو خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بن اور جو تجھے کہا گیا ہے اس کے مطابق عمل کر اور خدا تعالیٰ سے انعام پا اور اگر چاہے تو ناشکری کر اور ان ہدایتوں کا نافرمان بن اور نافرمانی کے نتیجہ میں اس دنیا میں بھی گھاٹا تیرے نصیب میں ہوگا اور اُخروی زندگی میں خدا تعالیٰ کے قہر کے عذاب میں تجھے جلنا پڑے گا۔غرض اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے مختلف مدارج سے گزار کر ترقی دی۔پس ہماری زندگی میں بھی اور ہر دوسری چیز کی زندگی میں بھی تدریجی اصول چل رہا ہے یہاں تک کہ پتھروں میں بھی تدریج کا اصول کارفرما ہے۔ہر چیز آہستہ آہستہ ترقی کرتی ہے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا احسان ہے کہ