انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 565 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 565

تفسیر حضرت خلیفۃالمسیح الثالث سورة الدهر اس نے انسان کو پیدا کیا۔اس کو قو تیں اور صلاحیتیں دیں۔ان کی حفاظت کے سامان پیدا کئے۔ان کی نشوو نما کے لئے ہدایت دی۔مگر یہ سب کچھ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِمَا شَاكِرًا وَ إِمَا كَفُورًا اب یہ تمہاری مرضی ہے کہ میری ہدایت کے مطابق عمل کرو اور انعام پاؤ یا اطاعت نہ کرو۔نافرمانی کرو اور ناشکرے بن جاؤ اور خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے نعماء کے حصول کے جو سامان پیدا کئے تھے ان کی طرف تم توجہ نہ کرو اور اس کے نتیجہ میں محرومی ، مہجوری اور خدا سے دوری کی زندگی گزارو۔(خطبات ناصر جلد ہفتم صفحه ۲۴۳ تا۷ ۲۴) آیت ۹ تا ۱۲ وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِينَا وَ يَتِيمَا وَ أَسِيران إنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاء وَ لَا شُكُورًا إِنَّا نَخَافُ مِنْ ربَّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَبْطَرِيرًا فَوَقَهُمُ اللهُ شَرَّ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَهُم نَضْرَةً و سرورا ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارے اس حکم کو سن کر ہمارے نیک بندے ہماری رضا کے متلاشی بندے، ہمارے قرب کے خواہاں بندے، اس طرح عمل کرتے ہیں۔وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ علی حتہ کہ وہ ہماری محبت کی خاطر اور ہماری خوشنودی کے حصول کے لئے کھانا کھلاتے ہیں کس کو؟ مسکین کو یتیم کو اسیر کو۔عربی زبان میں مسکین کے معنی ہیں ایسا شخص جس کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ وہ بخوبی گزارہ کر سکے اور اس کا گھرانہ اس رویے سے پرورش پا سکے۔اور یتیم کے معنی ہیں ایسا شخص جس کا والد یا مربی نہ ہو اور ابھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوسکتا۔اور اسیر کے لفظی معنی تو قیدی کے ہیں۔لیکن اس کے یہ معنی بھی کئے جا سکتے ہیں وہ شخص جو اپنے حالات سے مجبور ہوکر بطور قیدی کے ہو جائے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن لوگوں کو پوری غذا میسر نہیں اور ان کو ضرورت ہے کہ ان کی مدد کی جائے۔جس کے بغیر وہ اپنی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتے۔ان لوگوں کو ہمارے ابرار بندے کھانا کھلاتے ہیں اور کھانا کھلاتے ہوئے ان کے دل کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ زبان حال سے یہ کہہ