انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 563
۵۶۳ سورة الدهر تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ذریعہ ہمیں یہ دعا بھی سکھلائی گئی ہے۔رَبِّ اَرِنِي حَقَائِقَ الْأَشْيَاءِ ( تذکر صفحہ ۶۱۳) کہ اے میرے رب! مجھے حقائق اشیاء معلوم کرنے کی توفیق عطا فرما۔بعض دفعہ احمدی نوجوان طالب علم مجھ سے ملنے کے لئے آتے ہیں تو میں ان سے کہا کرتا ہوں کہ دیکھو قرآن کریم نے ہر علم کے متعلق بنیادی اصول بتا دیئے ہیں اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم ہر علم کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کریں۔ایک دفعہ حساب کے ایم ایس سی کے احمدی طلباء کا ایک گروپ ملاقات کے لئے آیا۔میں نے ان سے کہا تم حساب کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہو لیکن کیا تمہیں معلوم ہے حساب کے ماہرین نے یہ کہا ہے کہ حساب کی بنیاد چند مفروضات پر ہے یعنی انہوں نے بعض باتیں خود ہی فرض کر لی ہیں۔اگر وہ بنیا د بیچ میں سے نکال دی جائے تو علم حساب کی عمارت زمین پر گر پڑتی ہے لیکن اسلام نے یہ نہیں کہا کہ حساب کی بنیاد مفروضات پر ہے۔اسلام نے یہ کہا ہے کہ حساب کی بنیا د حقائق اشیاء پر ہے۔ویسے یہ ایک لمبا مضمون ہے ایک دو فقروں میں ہی اشارہ کر سکتا ہوں۔قرآن کریم نے کہا ہے کہ مکان اور زمان کے لحاظ سے ایک نسبت قائم ہے اور ان نسبتوں پر حساب کے علم کی بنیاد ہے مثلاً ایک آدمی آج سے پندرہ سال پہلے پیدا ہوا اور ایک پچاس سال پہلے پیدا ہوا۔یہ زمانہ کے لحاظ سے نسبتیں ہیں اور ایک مکان کے لحاظ سے نسبت ہے مثلاً یہ کہ زمین سورج سے اتنی دور ہے اور اس رفتار سے حرکت کر رہی ہے۔پس قرآن کریم کا یہ کہنا کہ حساب کی بنیا دزمانی اور مکانی نسبتوں پر رکھی گئی ہے، ایک عظیم حکمت پر مبنی ہے۔پچھلے دنوں کچھ غیر احمدی طلباء ملنے کے لئے آئے۔وہ سوشیالوجی کے طالب علم تھے۔ان سے بھی میں نے سوال کیا کہ بتاؤ تمہارے علم کی بنیاد کس چیز پر ہے؟ ان میں سے ایک لڑکا گھبرا گیا۔پھر میں نے بتایا کہ دیکھو آج کی مہذب دنیا نے معاشرہ کے موضوع پر کتا میں لکھی ہیں۔انہوں نے اس علم کو مدون کیا اور اسے ایک سائنس اور علم بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے لیکن وہ بھی اس سوال کا صحیح جواب نہیں دے سکتے۔اس کا صحیح جواب اسلام نے دیا ہے۔چنانچہ میں نے ان کو تفصیل سے سمجھایا اور بتایا کہ خواہ دنیا کا کوئی علم ہو قرآن کریم نے ہر علم کے متعلق بنیادی ہدایت دی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا إِنَّا هَدَيْنَهُ السَّبِيلَ ہم نے انسان کو اس کی ذہنی طاقتوں کے مناسب حال ہدایت دے دی ہے اسی طرح اخلاقی طاقتیں ہیں۔انسان کو اخلاقی صلاحیتیں دی گئی ہیں ان