انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 562 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 562

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۵۶۲ سورة الدهر سے فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھائے۔چنانچہ جب ہم انسان کی طاقتوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہدایت کی وہ راہ جو اس کی جسمانی قوتوں کی نشوونما کے لئے ضروری تھی وہ اس کومل گئی ہے اور اگر انسان اس پر چلے تو وہ مضبوط سے مضبوط جسم والا انسان بن سکتا ہے اور انسان کی جسمانی طاقتیں اپنے کمال کو پہنچ سکتی ہیں۔غرض قرآن کریم نے انسان کی دوسری طاقتوں کے علاوہ اس کی جسمانی طاقتوں کی حفاظت کے لئے اور ان طاقتوں کی نشوونما کے لئے بھی ہدایت دی ہے۔پھر نواہی یعنی بڑے کاموں سے روکنے والے احکام ہیں جو انسان کو تباہی اور ہلاکت سے بچاتے ہیں مثلاً انسان کی جسمانی طاقتوں کے لئے کھانا ایک ضروری چیز ہے لیکن بہت سی چیز میں کھانے سے منع کر دیا اور جو حلال چیزیں تھیں اور جن کے استعمال کی اجازت دی تھی ان کے متعلق بھی یہ کہا کہ دیکھو انسان انسان کی طبیعت میں فرق ہے۔بعض حلال چیزیں بعض انسانوں کے موافق آئیں گی بعض کے موافق نہیں آئیں گی اس لئے صرف حلال ہی نہیں طیب کھایا کرو تم یہ دیکھا کرو کہ تمہیں کون سی چیز موافق ہے، وہ کون سا کھانا ہے جو تمہاری طاقت کو قائم رکھنے والا ہے اور جس کے نتیجہ میں تم اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح نباہ سکتے ہو۔آج کی دنیا بڑا فخر کرتی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ غذا میں توازن (Balance) کا اصول انہوں نے معلوم کیا ہے حالانکہ قرآن کریم نے یہ پہلے ہی بتا دیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے ہر چیز میں توازن کا اصول قائم کیا ہے اس لئے فرمایا اَلا تَطْغَوا في الميزان (الرحمن : 9) فرمایا یہ خیال رکھنا کہ کسی شعبہ زندگی میں بھی اس توازن کے اصول کی خلاف ورزی سرز دنہ ہو کیونکہ اس سے تمہیں تکلیف پہنچے گی۔غرض انسان کی جسمانی طاقتوں کی حفاظت کے لئے اور ان کی صحیح اور کامل نشو نما کے لئے جس ہدایت کی ضرورت تھی وہ انسان کو دے دی گئی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو ذہنی قوتیں بھی عطا کی ہیں۔خدا تعالیٰ نے انسان کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ علم حاصل کرتا ہے اور علم کے میدانوں میں ترقیات کرتا ہے۔وہ اپنی انفرادی زندگی میں بھی اور اجتماعی زندگی میں بھی انقلاب ہائے عظیم پیدا کرتا رہا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ انسان کو ذہنی قو تیں دی گئی ہیں بلکہ اس کو بے راہ روی اور بھٹکنے سے بچانے کے لئے بھی اسے تعلیم دی گئی ہے اور وہ راہیں بھی بتا دی گئی ہیں جن پر چل کر وہ حقائق اشیاء تک پہنچ سکتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے