انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 561
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۵۶۱ سورة الدهر بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الدهر آیت ۳، ۴ إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجِ ، نَبْتَلِيْهِ سَمِيعًا بَصِيرًا إِنَّا هَدَيْنَهُ السَّبِيْلَ إِمَا شَاكِرَا وَ إِمَا كَفُوران فجعلته اللہ تعالیٰ نے سورۃ دھر میں فرمایا ہے کہ ایک چھوٹا سا قطرہ ہے جس سے بچے کی پیدائش شروع ہوتی ہے۔اس قطرہ میں بھی وہ سارے قومی موجود ہوتے ہیں جن کی نشو و نما حاصل کرنے کے بعد انسانی وجود ایک مکمل شکل اختیار کرتا ہے اور ترقی کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ ایک چوٹی کے معروف ومشہور سائنسدان کی صورت میں دنیا کے سامنے ظاہر ہوتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ أَمَشَاجِ نَبْتَلِيْهِ فَجَعَلْنَهُ سَمِيعًا بَصِيرًا فرمایا انسان کی پیدائش ایک ایسے نطفے سے ہوتی ہے جس میں مختلف قوتیں ملی ہوئی ہوتی ہیں۔پھر جب وہ نشو نما کے مختلف مدارج سے گزر جاتا ہے تو اسے دو بنیادی طاقتیں دی جاتی ہیں ایک مشاہدہ کی قوت یعنی بینائی اور ایک دوسروں سے سیکھنے کی قوت۔اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے انسان کو سمیع اور بصیر بنایا ہے۔وہ ان خدا داد قوتوں کے ذریعہ دوسروں کے تجربوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔إنَّا هَدَيْنَهُ السَّبِيلَ ہم نے انسان کو ہدایت کا راستہ دکھا دیا ہے، یعنی اس کے مناسب حال جو راہ تھی وہ اس کو دکھا دی ہے اور اس کے مقصدِ حیات کو پورا کرنے والی اور اس کو خدا کی طرف لے جانے والی اور خدا تک پہنچانے والی جو ہدایت ہے وہ اس کو دے دی ہے۔اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اس