انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 558
تفسیر حضرت خلیفہ اسح الثالث سورة القيامة خسوف و کسوف کا ایک ہی مہینہ میں یعنی رمضان میں ہونا جس کی تصریح آیت وَجُمِعَ الشَّمسُ والقمر میں کی گئی ہے۔قرآن کریم کی آیت ہے ومجمع الشمسُ وَالْقَمَرُ اب میں بعد میں آیات قرآنی پڑھوں گا اردو کے فقروں کے بعد اور اونٹوں کی سواری کا موقوف ہو جانا۔جس کی تصریح و اذا الْعِشَارُ عُظِلت (التکویر : ۵) سے ظاہر ہے اور ملک میں نہروں کا بکثرت نکلنا جیسا کہ آیت: وَاذَا الْبِحَارُ فُجرَتُ (الانفطار (۴) سے ظاہر ہے اور ستاروں کا متواتر ٹوٹنا جیسا کہ آیت : وَإِذَا الكَواكِبُ انتَثَرَتْ (الانفطار :۳) سے ظاہر ہے اور قحط پڑنا اور وباء پڑنا اور امساک باراں ہونا یہ تین قرب قیامت کی علامتیں ہیں جن کا تعلق زمانہ مہدی معہود سے ہے اور قحط پڑنا اور وباء پڑنا اور امساک باراں ہونا جیسا کہ آیت : اذا السَّمَاء انْفَطَرَتْ (الانفطار :۲) سے منکشف ہے اور سخت قسم کا کسوف شمس ظاہر ہونا جس سے تاریکی پھیل جائے جیسا کہ آیت: اِذَا الشَّمس كورت (التکویر : ۲) سے ظاہر ہے اور پہاڑوں کو اپنی جگہ سے اُٹھا دینا جیسا کہ آیت وَ إِذَا الْجِبَالُ سُيّرت (التكوير : ۴) سے سمجھا جاتا ہے اور جولوگ وحشی اور اراذل اور اسلامی شرافت سے بے بہرہ ہیں، ان کا اقبال چمک اٹھنا اور ان کا صاحب اقتدار ہو جانا اور دنیا کے حاکم بن جانا جیسا کے آیت وَ إِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتُ (التكوير : 1 ) سے مترشح ہو رہا ہے اور تمام دنیا میں تعلقات اور ملاقاتوں کا سلسلہ گرم ہو جانا اور سفر کے ذریعہ سے ایک دوسرے کا ملنا سہل ہو جانا جیسا کے بدیہی طور پر وَ اِذَا النُّفُوسُ زُوجَتُ (التكوير : ۸) سے سمجھا جاتا ہے اور کتابوں اور رسالوں اور خطوط کا ملکوں میں شائع ہو جانا اور ایک ملک سے دوسرے ملک تک آسانی سے پہنچ جانا خطوط کا جیسا کہ آیت : وَاِذَا الصُّحُفُ نُشرت (التکویر : ۱۱) سے ظاہر ہو رہا ہے اور جو چھوٹے چھوٹے تقویٰ کے چشمے تھے ان کا مکدر ہو جانا اس زمانہ میں جیسا کہ وَإِذَا النُّجوم الكدرت (التکویر : ۳) سے صاف معلوم ہوتا ہے اور بدعتوں اور ہر قسم کے فسق و فجور کا پھیل جانا جیسا کہ آیت إِذَا السَّمَاء انشقت (الانشقاق: ۲) سے مفہوم ہوتا ہے۔یہ تمام علامتیں قرب قیامت کی ظاہر ہو چکی ہیں اور دنیا پر ایک انقلاب عظیم آگیا ہے اور جیسا کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ قرب قیامت کا زمانہ ہے جیسا کہ آیت اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَ الْقَمَرُ (القمر : ۲) سے سمجھا جاتا ہے تو پھر یہ زمانہ جس پر تیرہ سو اور گزر گیا اس کے آخری زمانہ ہونے میں کس کو کلام ہے۔بہر حال