انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 547 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 547

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۴۷ سورة المدثر پس قُم فَانْذِرُ میں یہی حکم ہے اور ہم نے اس کی تعمیل کرنی ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اور خدا تعالیٰ کی اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی زندگی کے آخری سانس تک تبلیغ اسلام کے لئے ہر ممکن جد و جہد اور کوشش کرتے چلے جانا ہے۔وَ رَبِّكَ فَكَبّر میں فرمایا کہ انذار کی ڈیوٹی تمہارے ذمہ اس لئے لگائی گئی ہے اور یہ حکم تمہیں اس لئے دیا گیا ہے کہ اپنے رب کی عظمت اور اس کے جلال کو دنیا میں قائم کرو۔اور اس میں بشارت کا بھی ایک پہلو ہے۔کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ جب کبھی کوئی فتح کسی مسلمان کو نصیب ہوتی ہے تو بے ساختہ اس کے منہ سے نکلتا ہے۔اللہ اکبر۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے اس وقت تک مسلمان کا یہی شعار اور یہی طریق رہا ہے کہ الہی نصرتوں کو دیکھ کر ان کے دل کی گہرائیوں سے ایک آواز نکلتی ہے جوان کی زبانوں سے بلند ہوتی ہے اور فضاؤں میں گونجتی ہے اور وہ آواز اللہ اکبر کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اشارہ ہمیں یہ بھی بتا دیا کہ ہم نے تمہارے لئے فتوحات کے دروازے کھولنے کا ارادہ کر لیا ہے اور ہم نے ایسے سامان پیدا کر دئے ہیں کہ تم وقتا فوقتا اللہ اکبر کے نعرے لگایا کرو گے۔الحمد لله على ذلك وَ ثِيَابَكَ فَطَهَّرُ - فرمایا کہ تمہارے کپڑے پاکیزہ ہیں۔کیونکہ لباس تقوی تمہیں پہنا دیا گیا ہے لیکن مقام خوف ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطانی وساوس دخل دیں اور ان تقومی کے لباسوں پر نا پا کی اور گناہ کے سیاہ نقطے لگنے لگ جائیں جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے۔دوسرا گناہ کرتا ہے تو دوسرا نقطہ پڑ جاتا ہے۔پھر تیسرا گناہ کرتا ہے تو تیسرا سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے۔اور اگر وہ استغفار، دعا، عجز وانکساری سے ان سیاہ نقطوں کو مٹانے کی کوشش نہ کرے تو وہ نقطے قائم رہتے ہیں بلکہ بڑھتے چلے جاتے ہیں حتی کہ سارا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔تو اسی کی طرف اشارہ ہے وَثِيَابَكَ فَطَھر میں کہ لباس تقوی کی پاکیزگی کو بچانا تمہارا فرض ہے۔یعنی تربیت کے جس مقام پر تم کھڑے ہو اس مقام سے کبھی نہ گرنا بلکہ کوشش کرنا کہ اس سے بھی بلند تر مقام پر پہنچو۔اور ہمیشہ بلند سے بلند تر ہوتے چلے جاؤ۔اس آیت میں ہمیں یہ گر بھی بتایا گیا ہے کہ ضروری ہے کہ تم اپنے ماحول کا جائزہ لیتے رہو۔وہ ماحول جو کپڑے کی طرح تمہارے ساتھ چمٹا ہوا ہے۔تم اس کے اندر کسی گندگی کے گھنے کو کبھی برداشت نہ کرو۔بلکہ جب کبھی تمہیں کوئی رخنہ نظر