انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 45 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 45

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۵ سورة الاحزاب دوسرے یہ کہ خود اتنے سخت بن جاؤ کہ کفر اور نفاق کی سختی کے باوجود تمہارا اثر ان کے اندر چلا جائے اُن میں نفوذ کر جائے اور اُن کی جو ہیئت کذائی ہے اور ان کی ( چونکہ انسان ہیں اس لئے ہم کہیں گے ) جو ذہنیت اور اخلاق ہیں۔اُن کے جو منصوبے ہیں، اُن کے اندر ایک تبدیلی پیدا ہو اور جو آج کافر ہے، وہ کل کو مخلص مومن بن جائے جس طرح حضرت عکرمہ بن گئے تھے۔اور جو آج منافق ہے وہ کل سب کچھ قربان کرنے والا سچا مسلمان بن جائے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بہت سے لوگ نفاق چھوڑ کر سچے مومن بن گئے تھے۔تاہم کئی بد بخت نفاق کی حالت میں فوت بھی ہو گئے تھے۔لیکن کئی ایک کو اللہ تعالیٰ نے توبہ کی توفیق عطا فرمائی اور کمزور ایمان والے پختہ ایمان والے بن گئے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دو گروہ تو وہ تھے جن میں پہلا خدا کا انکار کرنے والا اور دوسرا اُخروی زندگی پر ایمان نہ لانے والا اور اُس کا منکر۔ان کے علاوہ دو اور گروہ ہیں۔پہلا گر وہ خدا کو مانتا ہے۔اُخروی زندگی کو بھی مانتا ہے اور سمجھتا ہے کہ آسمانی شریعت بھی آنی چاہیے تا کہ اُخروی زندگی سنور جائے لیکن وہ اپنی بد بختی کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں مانتا۔دوسرا گروہ منافقوں کا گروہ ہے۔وہ اسلام میں دُنیوی اغراض کے لئے شامل ہو جاتے ہیں۔اُخروی زندگی کے سنوار نے کے لئے شامل نہیں ہوتے پس یہ دو گروہ اور آگئے ان کے متعلق ہمیں مزید تجزیہ کرنا پڑے گا کیونکہ قرآن کریم نے ہستی باری تعالیٰ کے متعلق بے شمار دلائل دیئے ہیں۔سارے دلائل کا احاطہ کرنا تو ایک عمر کا بھی کام نہیں اس مضمون کا احاطہ ساری عمر کی محنت بھی نہیں کر سکتی۔تاہم تفصیلی نہیں تو کچھ انشاء اللہ بیان کروں گا۔جہاں تک کافروں کا تعلق ہے، وہ بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں۔لیکن میرے اس مضمون کے لحاظ سے وہ منکر مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اُخروی زندگی پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ویسے جو لوگ اللہ تعالیٰ پر نہیں لاتے ان کے متعلق جیسا کہ میں بتا چکا ہوں وہ بھی منکر ہیں۔لیکن اس وقت وہ منکرین مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اُخروی زندگی پر بھی ایمان لاتے ہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرآنی شریعت پر ایمان نہیں لاتے یا وہ لوگ جو نفاق کے طور پر اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔