انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 536 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 536

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۵۳۶ سورة الجن کو کہا کہ عبادت کا وقت ہے یہیں کر لو۔یہ بھی ایک روایت ہے کہ بعض صحابہ نے وہاں نماز پڑھنے پر اعتراض کیا آپ نے فرمایا کہ تم کون ہوتے ہو اعتراض کرنے والے یہ یہیں پڑھیں گے،اپنی عبادت یہیں کریں گے۔آپ کی سنت نے سارے مسئلے حل کر دیئے ہیں۔(خطابات ناصر جلد دوم صفحه ۱۸۵،۱۸۴) جب میں وہاں گیا ڈنمارک کی مسجد کا افتتاح کیا تو وہاں اخباروں میں افتتاح کے موقع پر پریس کانفرنس، عیسائی ملے ان کے ساتھ باتیں اور اتنا اثر قرآن کریم کا أَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ اَحَدًا کی میں نے ان کو بتائی تفسیر عظیم اعلان ہے ہم بھول جائیں تو ہماری بدقسمتی ہے یعنی مسلمان کو کہا ہے کہ یہ مسجد تیری نہیں میری ہے، انتہا کر دی نا، خدا نے پیار سے میں تو سمجھتا ہوں کہ میرے ساتھ پیار کی انتہا کر دی کہ جب میں نے مسجد بنائی تو خدا نے کہا کہ یہ مسجد تیری نہیں میری ہے اور چونکہ میری ہے اس لئے ہر موحد کے لئے اس کے دروازے کھلے رہیں گے۔مسلمان ہو یا نہ ہو موحد ہونا چاہیے میں نے ان کو یہ بتایا اس وقت تک وہ کہتے ہیں کہ دس ہزار سے زیادہ غیر مسلم اگر نماز کے وقت مسجد دیکھنے آ جائے بڑی خوبصورت جگہ ہے، سیاح آتے ہیں وہاں تو وہ نماز میں شامل ہو جاتے ہیں۔اس دن جس دن میں نے افتتاح کیا اور یہ اعلان کیا تو تین سو کے قریب غیر مسلم جمعہ کی نماز میں شامل ہو گئے اب بے چاروں کو یہ تو پتہ نہیں تھا کہ رکوع کس طرح کرتے ہیں اور سجدہ کس طرح کرتے ہیں اور قعدہ کس طرح کرتے ہیں وہ ادھر ادھر دیکھ لیتے تھے اور جس طرح مسلمان کرتے تھے۔وہ بھی کر لیتے تھے۔ہمیں بڑا لطف آیا اور یہ قرآن کریم کی تاثیر ہے یہ میرا یا آپ کا کام نہیں ہے کہ اتنی تبدیلی دو منٹ میں پیدا کر دیں۔یہ اعلان بڑا عظیم ہے قرآن کریم کا۔ان کو میں نے یہ آیت بتا کے تھوڑی سی مختصراً تفصیل بتائی اور نجران کا وفد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے آیا اور انہوں نے اجازت مانگی کہ ہمیں اجازت دیں ہم باہر جا کے کہیں اپنی عبادت کر لیں آپ نے کہا کہ باہر کیوں جاتے ہو مسجدى لهذا (السيرة النبويه ابن هشام الجز الثاني صفحه ۲۲۴)۔یہ میری مسجد۔مسجد نبوی جو ہے اس میں اپنی عبادت کر لو۔اور انہوں نے وہاں عبادت کی تو مسجد نبوی سے زیادہ مکرم اور مستند تو دنیا کی اور کوئی مسجد نہیں جس کے دروازے موحد غیر مسلم کے اوپر بند کر دیئے جائیں۔خطابات ناصر جلد دوم ۲۵۲ ۲۵۳)