انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 531
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۳۱ سورة الجن شامل ہو جاتے ہیں، سارے نہیں ہوتے کوئی شامل ہوتا ہے کوئی نہیں ہوتا بہر حال مسجد تو سارے لوگ (خطبات ناصر جلد ششم صفحه ۵۳۲، ۵۳۳) دیکھتے ہیں۔پس ہم مسجد میں خدا کی رضا کے حصول کے لئے بناتے ہیں ہم نے کہیں بھی اپنی شان کے لئے مسجد نہیں بنائی۔خدا کا گھر بنانا ہے اور خدا کے گھر بنانے میں ہماری رضا یہ ہے کہ وہ آبادر ہے اور خدا ہمیں ، ہماری نسلوں کو، ہمارے ہمسایوں کو اور ان ملکوں کو جن میں مساجد بنائی جا رہی ہیں یہ تو فیق عطا کرے کہ وہ خدا تعالیٰ کے ان گھروں کو ، ان مساجد کو آباد رکھیں۔سویڈن میں ایک وقت میں یہ بھی ہوا تھا کہ احمدی تھوڑے ہیں ان کو مسجد کے لئے زمین نہ دی جائے بلکہ جو لوگ زیادہ ہیں ان کو مسجد کے لئے زمین دی جائے۔وہاں ایک شخص نے مجھے بتایا اس کی تفصیل کا مجھے علم نہیں مجھے صرف اتنا بتایا گیا کہ جب یہ صورت پیدا ہوئی تو ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا اور انہوں نے سویڈن کے متعلقہ افسران سے یہ کہا کہ ہماری مسجد ہر موحد کے لئے کھلی ہے اس میں مسلمان ہونے کی بھی شرط نہیں کیونکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موحد عیسائی فرقے کے وفد کو جب ان کی عبادت کا وقت آیا تو یہ فرمایا کہ تم باہر کیوں جاتے ہو مَسْجِدِى هذا یہ میری مسجد ہے تم اس میں عبادت کرو۔اب دیکھو مسجد نبوی سے زیادہ با برکت اور مقدس دنیا میں اور کوئی مسجد نہیں مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دروازے عیسائیوں کے لئے کھول دیئے اور فرمایا تم باہر کیوں جاتے ہو یہیں اپنی عبادت کر لو۔پس آن الْمَسْجِدَ لِلهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللهِ اَحَدًا کی رو سے ہر موحد کے لئے خدا کے گھر کے دروازے کھلے ہیں۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا یہی اعلان میں نے ڈنمارک میں کوپن ہیگن کی مسجد کے افتتاح کے موقع پر کیا تھا۔اس کے معابعد جمعہ کی نماز تھی اور اس جمعہ کی نماز میں سینکڑوں عیسائی بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو گئے تھے جب میں نے یہ کہا آنَ الْمَسْجِدَ اللَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا اگلی آیت کا ٹکڑا ہے۔اس سے ہماری اسلامی تعلیم کی تین باتیں بڑی نمایاں طور پر ہمارے سامنے آتی ہیں۔ایک یہ کہ ہم مسجد کے مالک نہیں، مسجد تو خدا کا گھر ہے اور وہی اس کا مالک ہے ویسے بھی وہی مالک ہے لیکن اس پہلو سے بھی وہی مالک ہے کیونکہ وہ فرماتا ہے۔اَنَّ المَسجِدَ لِلهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا اس کی رو سے ہر موحد کے لئے مسجد کا دروازہ کھلا ہے۔اگلا حصہ بتاتا ہے کہ صرف ایک شرط ہے نیک نیتی سے آنا