انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 44
تفسیر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ۴۴ سورة الاحزاب روح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تھیلے میں لے لینا ہے۔جس طرح لوگوں نے بعض بزرگوں کے متعلق غلط سلط کہانیاں بنا رکھی ہیں (اس کی تفصیل میں میں تو اس وقت نہیں جا سکتا جس دوست کو کوئی کہانی یاد آ گئی ہو وہ حظ اٹھا لیں) بہر حال ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اُن کی روح جیتیں۔ہمارا یہ مقصد نہیں ہے کہ ہم ان کی گردن کاٹیں۔تاہم یہ جو مقابلہ ہے یہ جو جیتنے کا ایک فعل ہے اس کے لئے تگ و دو کرنی پڑتی ہے اس کے لئے کوشش کرنی پڑتی ہے اس کے لئے قربانیاں دینی پڑتی ہیں اس کے لئے انتہائی ایثار کے نمونے خدا کے حضور اور دنیا کے سامنے پیش کرنے پڑتے ہیں۔غرض یہ بڑی سخت جنگ ہے اس کے متعلق قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا ہے۔وَاغْلظ (التوبة : ۷۳) جس کے معنے یہ ہیں کہ کفار اور منافقین کے مقابلے میں سخت رویہ اختیار کرو۔یہاں بھی اس پوری آیت کی رو سے یا يُّهَا النَّبِی کہہ کر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نمونہ بتایا ہے۔میں اس مضمون کے متعلق ابھی مزید غور کر رہا ہوں۔میرا خیال ہے کہ جہاں بھی یا یهَا النَّبِی کہہ کر کوئی حکم دیا گیا ہے وہاں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے۔کہ اس میں بڑا سخت حکم تھا۔ایک پابندی تھی اس سے گھبرانا نہیں تمہارے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ موجود ہے اس کی طرف دیکھ لینا۔وہ تمہارا سہارا بن جائے گا۔پس يَايُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَارَ وَالْمُنْفِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ (التوبة : ۷۳) میں لفظ غلظ کے معنے ایسی سختی کے ہیں کہ جس کے اندر کوئی چیز اثر انداز نہ ہو سکے۔مثلاً اسپینج ہے۔یہ بھی نسبتا سخت ہے۔پانی کی نسبت زیادہ سخت ہے اس کو نیچے دبانے کے لئے بھی کچھ زور لگانا پڑتا ہے لیکن اس کے اندر پانی کا اثر چلا جاتا ہے۔اس کے اندر خلا ہے جس میں دوسری چیز داخل ہو جاتی ہے۔پانی میں مٹی کے جو چھوٹے چھوٹے ذرے ہوتے ہیں وہ اس کے اندر داخل ہو جاتے ہیں۔پس سختی تو نسبتا ہے لیکن اسپنج کی سختی ایسی سختی نہیں کہ باہر سے کسی چیز کا اثر اس کے اندر داخل نہ ہو سکے۔مگر غلظ کی رو سے کسی چیز میں ایسی سختی مراد ہے جس پر کسی چیز کا اثر نہ ہو سکے۔چنانچہ وَاغْلُظ عَلَيْهِمْ کے اس فقرے یا الفاظ کے اس مجموعہ میں دراصل دو معنے پائے جاتے۔اُس کا ایک مفہوم یہ ہے کہ خود اتنے سخت ہو جاؤ کہ کفر اور نفاق کا اثر تمہارے اندر گھس نہ سکے اور