انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 529 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 529

تفسیر حضرت خلیفہ المسیح الثالث ۵۲۹ سورة الجن بعض شکلوں کے مطابق نماز نہیں پڑھ سکتا۔اس کو کہا کہ لا تَخَفْ رَهَقًا کہ تجھ پر ایسا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا جو تیری طاقت سے بالا ہو۔چنانچہ بیمار، معذور یا مجبور ہونے کی صورت میں ایک کو کہا کہ تُو بیٹھ کر نماز پڑھ لے، دوسرے کو کہا کہ تو لیٹ کر نماز پڑھ لے، تیسرے کو کہا کہ تو اشاروں سے نماز پڑھ لے۔چوتھے سے کہا کہ تو ہتھیار باندھ کر نماز پڑھ اور اپنا کام کرتا جا۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا اتنا خیال رکھا ہے کہ اگر سوچیں تو ہم خود اتنا خیال نہ رکھ سکتے۔لا يَخَافُ رَهَقًا کے اعلان کے بعد کسی کو یہ خوف نہیں ہو گا کہ وہ کسی وقت ایسی منزل میں ہوگا یا ایسی حالت میں ہوگا کہ اسلام کے کسی حکم کی پابندی نہ کر سکے تو گناہ گار بن جائے گا۔اس شکل میں تو پابندی نہیں کرے گا لیکن گناہگار نہیں بنے گا۔مثلاً جو آدمی بے ہوش ہے اور بعض دفعہ چار چار دن تک آدمی بے ہوش رہتا ہے کیا ایسا شخص نمازیں چھوڑ کر گناہگار بن گیا ؟ نہیں لا يَخَافُ رَهَقًا کی رو سے جو اس کی طاقت نہیں ہے اس سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا بلکہ یہاں تک فرمایا کہ اگر اپنی غلطی کی وجہ سے بھی تم بیدار نہ رہو اور شکر ان کی حالت میں ہو تب بھی نماز پڑھنے کے لئے انتظار کرو۔وہ دوسرا جرم ہے لیکن نماز کو جان بوجھ کر چھوڑ دینا یہ بہت بڑا جرم ہے مگر اس کا بھی خیال رکھا۔ماں نے کیا خیال رکھنا ہے اور باپ نے کیا توجہ دینی ہے اور دوست نے اخوت کا کیا مظاہرہ کرنا ہے۔تمہارے رب نے تو کہیں زیادہ ہم سے پیار کیا اور پیار کی شکلیں بنادیں پس بد بخت ہے وہ آدمی جو اپنے خدا کو چھوڑتا ہے اور ایمان بالرب نہیں لاتا۔پھر تو اس کو بخس کا بھی ڈر ہے اس پر ظلم بھی ہوں گے اور اسے نقصان بھی پہنچیں گے اور ان کا کوئی مداوا نہیں ہو گا۔اپنے رب کو چھوڑ کر وہ کہاں جائے گا اور پھر یہ بھی ہوگا کہ گناہ کرے گا کیونکہ اپنی طرف سے جو شرعی حکم بنائے گا اور سمجھے گا کہ شریعت اسلامیہ حقہ نے جو احکام ( اوامر و نواہی ) دیئے، اس سے زیادہ مجھے چاہیے وہ بھی گناہگار بن جاتا ہے۔تکمیل شریعت میں اسی طرف اشارہ ہے۔( خطبات ناصر جلد سوم صفحه ۴۹۳ تا ۵۰۸) آیت ۲۰،۱۹ وَ اَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ اَحَدَاكُ وَ أَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدان مسجد اللہ کا گھر ہے قرآن کریم نے دُنیا میں یہ اعلان کیا ہے۔آنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ کہ دُنیا میں کوئی انسان