انوار القراٰن (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 524 of 711

انوار القراٰن (جلد ۳) — Page 524

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۵۲۴ سورة الجن فَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الظَّلِحَتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كَفَرَانَ لِسَعِيهِ وَإِنَّا لَهُ كَذِبُونَ (الانبياء : ٤) کہ جو ایمان لائے گا اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کرے گا اور عمل صالح بجالائے گا نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ تو فَلَا كُفْرَانَ لِسَعيه اس کی کوشش اور اس کے عمل بوجہ انسان ہونے کے اگر ناقص رہ جائیں گے تب بھی رد نہیں کئے جائیں گے۔فَلا کُفَرانَ لِسَعیہ میں یہ نہیں فرمایا کہ تمہاری سعی قابل قبول ہوگی رو نہیں کی جائے گی بلکہ فرمایا کہ جو شخص اعمال صالحہ بجالائے گا اور وہ مومن ہو گا اور ایمان کے جُملہ تقاضوں کو پورا کرے گا تو فَلَا كَفَرَانَ لِسَعیہ اس کو ہم یہ تسلی دیتے ہیں کہ بشری کمزوری کے نتیجہ میں اگر اس کے اعمال میں کوئی کمی اور نقص رہ جائے گا تب بھی اس کے اعمال رڈ نہیں کئے جائیں گے۔وہ قبول کر لئے جائیں گے۔اب یہ کتنا بڑا وعدہ ہے جو فَلا يَخَافُ بَخْس میں انسان کو دیا گیا ہے۔پھر فرمایا : وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاء الْحُسْنٰی (الکھف : ۸۹) یعنی جو ایمان لایا اور مناسب حال اعمال بجالا یا اُسے بہترین جزا دی جائے گی۔کسی جگہ فرما یا عَشْرُ أَمْثَالِهَا دس گناہ زیادہ دی جائے گی۔اس طرح پھر ظلم کا تو کوئی سوال ہی نہیں رہتا۔رحمت ہی رحمت ہے۔زیادہ سے زیادہ ہی ہے۔انسان کا تھوڑا سا عمل ہوتا ہے اور اُسے بہت بڑی جزا مل جاتی ہے۔پس لا يَخَافُ بخسا کی رو سے بہترین جزا ملے گی۔عمل رد نہیں کئے جائیں گے ذرا ظلم نہیں کیا جائے گا۔اسلامی شریعت پر ایمان لانے کے نتیجہ میں جو آدمی ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے، نہ اس کو نقصان کا کوئی خطرہ ہوتا ہے اور نہ ظلم کا کوئی خطرہ ہوتا ہے بلکہ ایک نیک عمل کے بدلے میں دس، ایک کے بدلے میں شاید دوسو، ایک کے بدلے میں شاید دو ہزار ، ایک کے بدلے میں شاید دو کروڑ یا دوارب گنا زیادہ بلکہ شاید ان گنت جزا ملے گی کیونکہ اگر جزا ان گنت نہ ہوگی تو جنتیں ہمیشہ کے لئے کیسے بن جائیں گی۔تو فرمایا لا يَخَافُ بَخْصًا جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر ایمان لایا اور قرآن کریم نے جس رنگ میں اللہ تعالیٰ کو پیش کیا ہے اس رنگ میں اس کی ہستی پر اور اس کی صفات پر ایمان لایا اور جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو پہچانا اور جس نے محبت اور عشق میں ایک نئی زندگی حاصل کر کے خلوص نیت کے ساتھ خدا کی راہ میں کچھ کیا اور اگر بشری کمزوریوں